تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 94
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة المؤمن کے مستحق ٹھہرو۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے لیکن جو لوگ استقامت اختیار کرتے ہیں خدا ان کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔دُعا کے بعد کامیابی اپنی خواہش کے مطابق ہو یا مصلحت الہی کوئی دوسری صورت پیدا کر دے ہر حال میں دُعا کا جواب ضرور خدا تعالیٰ کی طرف سے مل جاتا ہے۔ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ دُعا کے واسطے اس کی حد تک جو ضروری ہے تضرع کی جاوے اور پھر جواب نہ ملے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخه ۹ /اگست ۱۹۰۶ ء صفحه ۳) ہماری جماعت کو چاہیئے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کرو۔اس کا وعدہ ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دُعا سے مراد دُنیا کی دعا ہے۔وہ دنیا کے کیڑے ہیں۔اس لئے اس سے پرے نہیں جاسکتے۔اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہ گار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے۔اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے۔دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لئے کہ فطر تا برودت اس میں ہے۔ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہو رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا۔الحکم جلد نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۵) انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا اسی واسطے اُدْعُونِجَ اسْتَجِبْ لَكُمْ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بشارت نہیں دی مگر وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ۔۔۔۔الآیۃ میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا کو راضی کر سکتا ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۵) دو قُلْ اِنّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِي الْبَيِّنْتُ مِنْ ربى وَأُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔) ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تئیں رب العالمین کے لئے خالص کرلوں یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ رب العالمین ہے میں خادم العالمین