تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 89

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۹ سورة المؤمن دعاؤں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اکثر کر مانگنا اور بات ہے۔یہ کہنا کہ میرا فلاں کام اگر نہ ہوا تو میں انکار کر دوں گا یا یہ کہہ دوں گا یہ بڑی نادانی اور شرک ہے اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے۔ایسے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں۔قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دُعا تمہاری مرضی کے موافق میں قبول کروں گا۔بیشک یہ ہم مانتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ الآية (البقرة : ۱۵۲) - ادْعُونِ اسْتَجِبْ لَكُمْ میں اگر تمہاری مانتا ہے تو لنبلونکم میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۳) اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور لَنَبْلُوَنَّكُمْ کو ملایا ہے۔نَعْبُدُ تو یہی ہے کہ بھلائی برائی کا خیال نہ رہے۔سلب امید دامانی ہو۔اور ایاک نستعین میں دُعا کی تعلیم ہے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۴) دُعا کرنا اور کرانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔دُعا کے لئے جب درد سے دل بھر جاتا ہے اور سارے حجابوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت سمجھنا چاہیے کہ دُعا قبول ہو گئی۔یہ اسم اعظم ہے۔اس کے سامنے کوئی ان ہونی چیز نہیں ہے۔ایک خبیث کے لئے جب دعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناً وہ صالح ہو جاوے اور بغیر دعا کے وہ اپنی تو بہ پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔بیمار اور مجوب اپنی دستگیری آپ نہیں کرسکتا۔سنت اللہ کے موافق یہی ہوتا ہے کہ جب دُعائیں انتہا تک پہنچتی ہیں تو ایک شعلہ نور کا اس کے دل پر گرتا ہے جو اس کی ساری خباثتوں کو جلا کر تاریکی دُور کرتا اور اندر ایک روشنی پیدا کرتا ہے یہ طریق استجابت دعا کا رکھا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۶،۵ ) خدا تعالیٰ نے تو انسان سے نہایت تنزل کے رنگ میں دوستانہ برتاؤ کیا ہے۔دوستانہ تعلق کیا ہوتا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات کو مان لیتا ہے اور کبھی دوسرے سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ اور إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ الآية (البقرة : ۱۸۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی بات کو مان لیتا ہے