تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 85
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ سورة المؤمن دعاؤں میں اثر ہوتے ہیں مگر صبر سے ان کا ظہور ضرور ہوتا ہے۔میرے نزدیک نہایت ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جو ہمیشہ اپنے تئیں دعا کے سلسلہ کے نزدیک رکھتا ہے۔اگر تمام جہاں اس قول کے برخلاف ہو جائے تب بھی وہ سب غلطی پر ہیں۔دعا سے بڑے بڑے انقلاب پیدا ہو جاتے ہیں۔دُعازمین سے لے کر آسمان تک اپنا اثر رکھتی ہے۔عجیب کرشمے دکھاتی ہے۔ہاں پورے طور پر اس زندہ دعا کا ظہور میں آجانا اور ہو جانا یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔( مکتوبات احمد به جلد ۵ حصہ اول صفحه ۲۰ مکتوب نمبر ۵۳ بنام حضرت سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی ) میرے خدائے کریم و قدیر کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعاؤں کی قبولیت کے بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے تا جو بد بخت اور شتاب کار ہیں وہ بھاگ جائیں اور اس خاص طور سے فضل کا انہیں کو حصہ ملے جو خدا تعالیٰ عزوجل کے دفتر میں سعید لکھے گئے ہیں۔مکتوبات احمدیہ جلد ۵ حصہ اوّل صفحه ۳۴ مکتوب نمبر ۸۳ بنام حضرت سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی ) بعض اوقات انسان کسی دعا میں ناکام رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے دعا رد کر دی حالانکہ خدائے تعالیٰ اُس کی دعا کوشن لیتا ہے اور وہ اجابت بصورت ر ڈ ہی ہوتی ہے کیونکہ اُس کے لئے در پردہ اور حقیقت میں بہتری اور بھلائی اس کے رڈ ہی میں ہوتی ہے۔انسان چونکہ کوتاہ بین اور دور اندیش نہیں بلکہ ظاہر پرست ہے اس لئے اس کو مناسب ہے کہ جب اللہ تعالی سے کوئی دعا کرے اور وہ بظاہر اس کے مفید مطلب نتیجہ خیز نہ ہو تو خدا پر بدظن نہ ہو کہ اُس نے میری دعا نہیں سنی۔وہ تو ہر ایک کی دُعائنتا ہے۔ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرماتا ہے۔راز اور بھید یہی ہوتا ہے کہ داعی کے لئے خیر اور بھلائی رو دعا ہی میں ہوتی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۱) ہماری دعا کا جو تعلق خدائے تعالیٰ سے ہے میں چاہتا ہوں کہ اُسے بھی بیان کر دوں۔ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آجاتا ہے۔بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اس کی چھینیں دودھ کو کیوں کر کھینچ لاتی ہیں؟ اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلا ہٹ ہے کہ دُودھ کو کھینچ لاتی ہے۔تو کیا ہماری چیچنیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لاسکتیں؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور