تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 86

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۶ سورة المؤمن رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک رحم مانگنے کے بعد پیدا ہوتا ہے مانگتے جاؤ گے ملتا جاوے گا۔اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ کوئی لفاظی نہیں بلکہ یہ انسانی سرشت کا ایک لازمہ ہے۔مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے۔بچہ کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۵۰،۱۴۹) قضائے معلق اور مبرم کا ماخذ اور پتہ قرآن کریم سے ملتا ہے۔یہ الفاظ کو نہیں مثلاً قرآن کریم میں فرمایا ب ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔ترجمہ دعا مانگو میں قبول کروں گا۔اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا قبول ہو سکتی ہے اور دعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزار ہا کیا گل کام دعا سے نکلتے ہیں۔یہ بات یادر رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالی کا گل چیزوں پر قادر نہ تصرف ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کے پوشیدہ تصرفات کی لوگوں کو خواہ خبر ہو یا نہ ہونگر صد ہا تجربہ کاروں کے وسیع تجربے اور ہزار بادردمندوں کی دعا کے صریح نتیجے بتلار ہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اور مخفی تصرف ہے وہ جو چاہتا ہے محو کرتا ہے اور جو چاہتا ہے اثبات کرتا ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ را پریل۱۸۹۹ء صفحه ۳) خدا تعالیٰ نے جو اُدعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرما یا۔یہ نری لفاظی نہیں ہے بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے مانگنا انسانی خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔جو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔الحکام جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱) یا درکھو اللہ تعالی بڑا ہی کریم ورحیم اور با مروت ہے۔جب کوئی اس کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اس کی مرضی پر راضی ہو جاتا ہے تو وہ اس کو اس کا بدلہ دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔غرض یہ تو وہ مقام اور مرحلہ ہے جہاں وہ اپنی بات منوانی چاہتا ہے۔دوسرا مقام اور مرحلہ وہ ہے جو اس نے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں فرمایا ہے۔یہاں وہ اس کی بات ماننے کا وعدہ فرماتا ہے۔الخام جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دُعا ؤں کو سنتا ہے اور وہ بہت ہی قریب ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی صفات اور اسماء کا لحاظ نہ کیا جائے اور دُعا کی جائے تو وہ کچھ بھی اثر نہیں رکھتی۔صرف اس ایک راز کے معلوم نہ ہونے کہ وجہ سے نہیں بلکہ معلوم نہ کرنے کی وجہ سے دنیا ہلاک ہو رہی ہے۔میں نے بہت لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ہم نے بہت دُعائیں کیں اور ان کا نتیجہ کچھ نہیں ہوا۔اور اس نتیجہ نے اُن