تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 84

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۸۴ سورة المؤمن دنیوی مشکل کشائی کے لئے ہو مگر ہماری ایمانی حالت اور عرفانی مرتبت پرگزر کر آتی ہے یعنی اول ہمیں ایمان اور عرفان میں ترقی بخشتی ہے اور ایک پاک سکینت اور انشراح صدر اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ہمیں عطا کر کے پھر ہماری دنیوی مکروہات پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور جس پہلو سے مناسب ہے اس پہلو سے ہمارے غم کو دُور کر دیتی ہے پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ دعا اسی حالت میں دعا کہلا سکتی ہے کہ جب در حقیقت اس میں ایک قوت کشش ہو اور واقعی طور پر دعا کرنے کے بعد آسمان سے ایک نو را ترے جو ہماری گھبراہٹ کو دور کرے اور ہمیں انشراح صدر بخشے اور سکینت اور اطمینان عطا کرے۔ہاں حکیم مطلق ہماری دعاؤں کے بعد دوطور سے نصرت اور امداد کو نازل کرتا ہے (۱) ایک یہ کہ اس بلا کو دور کر دیتا ہے جس کے نیچے ہم دب کر مرنے کو تیار ہیں (۲) دوسرے یہ کہ بلا کی برداشت کے لئے ہمیں فوق العادت قوت عنایت کرتا ہے بلکہ اس میں لذت بخشتا ہے اور انشراح صدر عنایت فرماتا ہے۔پس ان دونوں طریقوں سے ثابت ہے کہ دعا سے ضرور نصرت الہی نازل ہوتی ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۲ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۴۸) دُعا جو خدا تعالی کی پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں (۱) ایک یہ کہ تاہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر توحید پر پختگی حاصل ہو کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ تا دُعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔(۳) تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔(۴) چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رویا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے لیکن اگر کسی کو بطور خود مرادیں ملتی جائیں اور خدا تعالیٰ سے دُوری اور محجوبی ہو تو وہ تمام مراد میں انجام کارحسرتیں ہیں اور وہ تمام مقاصد جن پر فخر کیا جاتا ہے آخرالامر جائے افسوس اور تاسف ہیں۔دُنیا کے تمام عیش آخر رنج سے بدل جائیں گے اور تمام راحتیں دُکھ اور درد دکھائی دیں گی مگر وہ بصیرت اور معرفت جو انسان کو دعا سے حاصل ہوتی ہے اور وہ نعمت جو دعا کے وقت آسمانی خزانہ سے ملتی ہے وہ کبھی کم نہ ہوگی اور نہ اس پر زوال آئے گا بلکہ روز بروز معرفت اور محبت الہی میں ترقی ہو کر انسان اس زینہ کے ذریعے سے جو دعا ہے فردوس اعلیٰ کی طرف چڑھتا جائے گا۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۲ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵۱،۵۰)