تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 83
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة المؤمن اور ضروری ٹھہرا رکھا ہے اور ہر ایک طالب مقصود کو طبعاً اس پل پر سے گزرنا پڑتا ہے پھر جائے شرم ہے کہ کوئی ایسا خیال کرے کہ دعا اور تدبیر میں کوئی تناقض ہے دعا کرنے سے کیا مطلب ہوتا ہے؟ یہی تو ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب جس کو دقیق در دقیق تدبیریں معلوم ہیں کوئی احسن تدبیر دل میں ڈالے یا بوجہ خالقیت اور قدرت اپنی طرف سے پیدا کرے پھر دعا اور تدابیر میں تناقض کیوں کر ہوا۔علاوہ اس کے جیسا کہ تدبیر اور دعا کا باہمی رشتہ قانونِ قدرت کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ایسا ہی صحیفہ فطرت کی گواہی سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں ایسا ہی طبعی جوش سے دعا اورصدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں۔اگر دُنیا کی تمام قوموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کسی قوم کا کانشنس اس متفق علیہا مسئلہ کے برخلاف ثابت نہیں ہوا۔پس یہی ایک روحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں بلکہ دعا کے ذریعہ سے تدابیر کو تلاش کریں۔غرض دعا اور تدبیر انسانی طبیعت کے دو طبعی تقاضے ہیں کہ جو قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں اور تدبیر دعا کے لئے بطور نتیجہ ضروریہ کے اور دعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ تد بیر کرنے سے پہلے دعا کے ساتھ مبدء فیض سے مدد طلب کرے تا اُس چشمہ لا زوال سے روشنی یا کر عمدہ تدبیریں میسر آسکیں۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۲ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۴۲، ۴۳) بعض لوگ جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم دعا سے منع نہیں کرتے مگر دعا سے مطلب صرف عبادت ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ ہر ایک عبادت جس کے اندر خدا تعالیٰ کی طرف سے روحانیت پیدا نہیں ہوتی اور ہر ایک ثواب جس کی محض خیال کے طور پر کسی آئندہ زمانہ پر امید رکھی جاتی ہے وہ سب خیال باطل ہے حقیقی عبادت اور حقیقی ثواب وہی ہے جس کے اسی دُنیا میں انوار اور برکات محسوس بھی ہوں ہماری پرستش کی قبولیت کے آثار یہی ہیں کہ ہم عین دعا کے وقت میں اپنے دل کی آنکھ سے مشاہدہ کریں کہ ایک تریاقی نور خدا سے اترتا اور ہمارے دل کے زہریلے مواد کو کھوتا اور ہمارے پر ایک شعلہ کی طرح گرتا اور فی الفور ہمیں ایک پاک کیفیت انشراح صدر اور یقین اور محبت اور لذت اور اُنس اور ذوق سے پر کر دیتا ہے۔اگر یہ امر نہیں ہے تو پھر دعا اور عبادت بھی ایک رسم اور عادت ہے۔ہر ایک دعا گو ہماری