تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 74

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۴ سورة المؤمن ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ الْوَكِيلُ وَنِعْمَ النَّصِيرُ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ا جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۸) لَخَلْقُ السَّبُوتِ وَ الْاَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا وروور يعلمون (۵۸) حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال شیطان کا نام ہے پھر جس گروہ سے شیطان اپنا کام لے گا اُس گروہ کا نام بھی استعارہ کے طور پر وقال رکھا گیا کیونکہ وہ اُس کے اعضاء کی طرح ہے۔قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے لَخَلْقُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ یعنی انسانوں کی صنعتوں سے خدا کی صنعتیں بہت بڑی ہیں یہ اشارہ ان انسانوں کی طرف ہے جن کی نسبت لکھا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں بڑی بڑی صنعتیں ایجاد کریں گے اور خدائی کاموں میں ہاتھ ڈالیں گے۔اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اس جگہ انسانوں سے مراد دجال ہے اور یہ قول دلیل اس بات پر ہے کہ دجال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ ناس کا نام اُس پر اطلاق نہ پاتا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ ناس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے سو جو گروہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعلمين (الفاتحة : ۲) سے شروع کیا گیا اور الصد اس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ( الناس : ۲ ،۷) پس لفظ کاس سے مراد اس جگہ بھی دجال ہے۔ایام اصبح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۹۶) واضح رہے کہ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی دجال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے لَخَلْقُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ۔یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں۔یعنی گووہ لوگ اسرار زمین و آسمان کے معلوم کرنے میں کتنی ہی جانکا ہی کریں اور کیسی ہی طبع و عا دلاویں پھر بھی ان کی طبیعتیں ان اسرار کے انتہا تک پہنچ نہیں سکتیں۔یادر ہے کہ اس جگہ بھی مفسرین نے الناس سے مراد دجال معبود ہی لیا ہے دیکھو تفسیر معالم وغیرہ اور قرینہ قویہ اس پر یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دجال معہود اپنی ایجادوں اور