تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 73
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمن پڑھو۔یہاں تک کہ وہ دریا میں گرائے گئے۔اور مچھلی کے پیٹ میں گئے۔تب تو بہ منظور ہوئی۔یہ سزا اور عتاب حضرت یونس پر کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہوں نے خدا کو قادر نہ سمجھا کہ وہ وعید کو ٹال دیتا ہے۔پھر تم لوگ کیوں میرے متعلق جلدی کرتے ہو؟ اور میری تکذیب کے لئے ساری نبوتوں کو جھٹلاتے ہو؟ لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۷۶ تا ۲۷۹) خدا کے راستبازوں اور ماموروں کے مقابلہ میں ہر قسم کی کوششیں ان کو کمزور کرنے کے لئے کی جاتی ہیں لیکن خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ ساری کوششیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ایسے موقع پر بعض شریف الطبع اور سعید لوگ بھی ہوتی ہیں جو کہہ دیتے ہیں اِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُم - اور صادق کا صدق خود اس کے لئے زبردست ثبوت اور دلیل ہوتا ہے اور کاذب کا کذب ہی اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔پس ان لوگوں کو میری مخالفت سے پہلے کم از کم اتنا ہی سوچ لینا چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں یہ ایک راہ راست باز کی شناخت کی رکھی ہے مگر افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۲) جو کام نفاق طبعی اور دُنیا کی گندی زندگی کے ساتھ ہوں گے وہ خود ہی اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے۔کا ذب کبھی کامیاب ہو سکتا ہے؟ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَلاب کذاب کی ہلاکت کے واسطے اس کا کہذب ہی کافی ہے۔لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے رسول کی برکات کے اظہار اور ثبوت کے لئے ہوں اور خود اللہ تعالیٰ کے اپنے یہ ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہو تو پھر اس کی حفاظت تو خود فرشتے کرتے ہیں۔کون ہے؟ جو اس کو تلف کر سکے؟ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۵، صفحہ ۱۱) وو إنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ ہمارا قانونِ قدرت یہی ہے کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان داروں کو دُنیا اور آخرت میں مدد دیا (براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۵۰ حاشیہ نمبر ۱۱) و کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ انا لتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوں کر مدد کر سکتا ہے۔اصل بات یہی