تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 72
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۲ سورة المؤمن انسان مصیبت اور بلا کے وقت صدقہ دینا چاہتا ہے اور خیرات کرتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ بکرے دو۔کپڑے دو۔یہ دو وہ دو۔اگر اس کے ذریعہ سے رڈ بلا نہیں ہوتا تو پھر اضطراراً انسان کیوں ایسا کرتا ہے؟ نہیں رڈ بلا ہوتا ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کے اتفاق سے یہ بات ثابت ہے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا مذہب نہیں بلکہ یہودیوں۔عیسائیوں اور ہندوؤں کا بھی یہ مذہب ہے اور میری سمجھ میں روئے زمین پر کوئی اس امر کا منکر ہی نہیں جبکہ یہ بات ہے تو صاف کھل گیا کہ وہ ارادہ الہی ٹل جاتا ہے۔پیشگوئی اور ارادہ الہی میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی اطلاع نبی کو دی جاتی ہے۔اور ارادہ الہی پر کسی کو اطلاع نہیں ہوتی۔اور وہ مخفی رہتا ہے۔اگر وہی ارادہ الہی نبی کی معرفت ظاہر کر دیا جاتا تو وہ پیشگوئی ہوتی۔اگر پیشگوئی نہیں مل سکتی تو پھر ارادہ الہی بھی صدقہ خیرات سے نہیں مل سکتا۔لیکن یہ بالکل غلط ہے۔چونکہ وعید کی پیشگوئیاں مل جاتی ہیں۔اس لئے فرما یا ان يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ اب اللہ تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے کہ بعض پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ٹل گئیں۔اگر میری کسی پیشگوئی پر ایسا اعتراض کیا جاتا ہے تو مجھے اس کا جواب دو۔اگر اس امر میں میری تکذیب کرو گے تو میری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والے ٹھہرو گے۔میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ کل اہل سنت جماعت اور کل دنیا کا مسلم مسئلہ ہے کہ تضرع سے عذاب کا وعدہ مل جایا کرتا ہے۔کیا حضرت یونس علیہ السلام کی نظیر بھی تمہیں بھول گئی ہے؟ حضرت یونس کی قوم سے جو عذاب ٹل گیا تھا اس کی وجہ کیا تھی ؟ درمنثور وغیرہ کو دیکھو اور بائبل میں یو نہ نبی کی کتاب موجود ہے۔اس عذاب کا قطعی و عدہ تھا مگر حضرت یونس کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا۔خدا تعالیٰ نے اس کو بخش دیا اور عذاب ٹل گیا۔ادھر حضرت یونس یوم مقررہ پر عذاب کے منتظر تھے۔لوگوں سے خبریں پوچھتے تھے۔ایک زمیندار سے پوچھا کہ نیوہ کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا کہ اچھا حال ہے۔تو حضرت یونس پر بہت غم طاری ہوا۔اور انہوں نے کہا لن أرجع إلى قَوْمِي كَذَابًا یعنی میں اپنی قوم کی طرف کذاب کہلا کر نہیں جاؤں گا۔اب اس نظیر کے ہوتے ہوئے اور قرآن شریف کی زبردست شہادت کی موجودگی میں میری کسی ایسی پیشگوئی پر جو پہلے ہی سے شرطی تھی اعتراض کرنا تقویٰ کے خلاف ہے۔متقی کی یہ شان نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے منہ سے بات نکال دے اور تکذیب کو آمادہ ہو جاوے۔حضرت یونس کا قصہ نہایت دردناک اور عبرت بخش ہے۔اور وہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے اُسے غور سے