تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 71

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 21 سورة المؤمن یقیناً سمجھو کہ خدا کے مُرسل ان نشانات اور تائیدات سے شناخت کئے جاتے ہیں۔جو خدا تعالیٰ ان کے لئے دکھاتا اور اُن کی نصرت کرتا ہے۔میں اپنے قول میں سچا ہوں۔اور خدا تعالیٰ جو دلوں کو دیکھتا ہے وہ میرے دل کے حالات سے واقف اور خبر دار ہے۔کیا تم اتنا بھی نہیں کہہ سکتے جو آل فرعون کے ایک آدمی ج نے کہا تھا اِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ کیا تم یہ یقین نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں کا سب سے زیادہ دشمن ہے۔تم سب مل کر جو مجھ پر حملہ کرو۔خدا کا غضب اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔پھر اس کے غضب سے کون بچا سکتا ہے۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں یہ نکتہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں بعض پوری کر دے گا۔گل نہیں کہا۔اس میں حکمت کیا ہے؟ حکمت یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں مشروط ہوتی ہیں۔وہ تو بہ، استغفار اور رجوع الی الحق سے ٹل بھی جایا کرتی ہیں۔پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وعدہ کی۔جیسے فرمایا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ (النور :۵۶) اہل سنت مانتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئیوں میں تخلف نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کریم ہے۔لیکن وعید کی پیشگوئیوں میں وہ ڈرا کر بخش بھی دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم ہے۔بڑا نادان اور اسلام سے دُور پڑا ہوا ہے وہ شخص جو کہتا ہے وعید کی سب پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔وہ قرآن کریم کو چھوڑتا ہے۔اس لئے کہ قرآن شریف تو کہتا ہے يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ - افسوس ہے بہت سے لوگ مولوی کہلاتے ہیں مگر انہیں نہ قرآن کی خبر ہے نہ حدیث کی نہ سنت انبیاء کی۔صرف بغض کی جھاگ ہوتی ہے۔اس لئے وہ دھوکا دیتے ہیں۔یا د رکھو الْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وَفي رحیم کا تقاضا یہی ہے کہ قابل سز اٹھہرا کر معاف کر دیتا ہے اور یہ تو انسان کی بھی فطرت میں ہے کہ وہ معاف کر دیتا ہے۔ایک مرتبہ میرے سامنے ایک شخص نے بناوٹی شہادت دی۔اس پر جرم ثابت تھا وہ مقدمہ ایک انگریز کے پاس تھا۔اُسے اتفاقا چٹھی آگئی کہ کسی دُور دراز جگہ پر اس کی تبدیلی ہوگئی ہے۔وہ غمگین ہوا۔جو مجرم تھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔منشی سے کہا کہ یہ تو قید خانہ ہی میں مرجاوے گا۔اُس نے بھی کہا کہ حضور بال بچہ دار ہے۔اس پر وہ انگریز بولا کہ اب مثل مرتب ہو چکی ہے۔اب ہو کیا سکتا ہے۔پھر کہا کہ اچھا اس مثل کو چاک کر دو۔اب غور کرو کہ انگریز کو تو رحم آ سکتا ہے خدا کو نہیں آتا؟ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ صدقہ اور خیرات کیوں جاری ہے اور ہر قوم میں اس کا رواج ہے۔فطرتاً