تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 67
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۷ سورة المؤمنون آیت إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی ۱۲۷۴۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۵) مسیح موعود کے ظہور کی خصوصیت کے ساتھ یہ علامت ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد نازل ہو کیونکہ یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے جس کا مسلم کی حدیث میں وجہ تسمیہ صحیح ہونے کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ مومنوں کی شدت اور محنت اور ابتلاء کا غبار جود جال کی وجہ سے ان کے طاری حال ہو گا ان کے چہروں سے یو نچھ دے گا یعنی دلیل اور حجت سے ان کو غالب کر دکھائے گا سو اس لئے وہ صحیح کہلائے گا کیونکہ مسح پونچھنے کو کہتے ہیں جس سے صحیح مشتق ہے اور ضرور ہے کہ وہ دجال معہود کے بعد نازل ہو۔سو یہ عاجز دجال معہود کے خروج کے بعد آیا ہے۔پس اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کاموں سے تہ و بالا کر دیا ہے اور جو ٹھیک ٹھیک اس وقت سے زور کے ساتھ خروج کر رہا ہے اور جو اعداد آیت إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ سے سمجھا جاتا ہے یعنی ۱۸۵۷ کا زمانہ تو ساتھ ہی اس عاجز کا مسیح موعود ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۸۹،۴۸۸) آیت إِنا عَلى ذَهَابِ بِه لَقَدِرُونَ میں ۱۸۵۷ء کی طرف اشارہ ہے جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہو گئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ۱۲۷۴ ہیں اور ۱۲۷۴ کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ۱۸۵۷ ء ہوتا ہے۔سو در حقیقت ضعف اسلام کا زمانہ ابتدائی یہیں ۱۸۵۷ء ہے جس کی نسبت خدائے تعالی آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔سو ایسا ہی ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی تھی۔۔۔۔۔پس اس حکیم و علیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ۱۸۵۷ء میں میرا کلام آسمان پر اُٹھایا جائے گا یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔۔۔۔۔۔۔کتاب الہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے اور ان کے دلی اور دماغی قومی پر بہت برا اثر ان سے پڑا ہے۔اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الہی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیر کی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کر سکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثر ڈالتی ہیں بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روشنی کی مزاحم ہو رہی ہیں۔کیوں مزاحم ہورہی ہیں؟ اس کی