تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 60

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اُنْسُ الْأَمِ وَالْآبِ فِي الصَّبْيَانِ فَدَعَاهُ بِاسْمِ الْإِنْسَانِ وَهَذَا مَبْنُ عَلَى التَّثْنِيَّةِ مِنَ الْمَنَانِ لِيَدُلُّ لَفْظُ الْأَنْسَيْنِ عَلَى كِلْتَى الصَّفَتَيْنِ إِلَى انْقِطَاعِ الزَّمَانِ وَيَكُونُ مِنَ الْمُتَدَّ كَرِيْنَ۔ثُمَّ بَدَّلَ قَانُونَ الْقُدْرَةِ بِإِذْنِ الله سورة المؤمنون وَتَفْصِيلُهُ أَنَّ اللهَ إِذَا أَرَادَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ فَبَدَة کی تفصیل یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا خَلْقَهُ مِنْ سُلَالَةِ طِيْنٍ مُطَهَّرٍ مِنَ الْأَدْرَانِ کرنا چاہا تو اس کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے فلذلك سماه ادم عِندَ الخطاب و في الكتاب تمام قولیٰ کا عطر تھا اور میلوں سے پاک تھا اس کا نام لِمَا خَلَقَهُ مِنَ التُّرَابِ وَ لِمَا جَمَعَ فِيهِ فَضَائِلَ خطاب اور کتاب میں آدم رکھا اس لئے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا اور سارے جہان کی خوبیاں اس میں الْعَالَمِينَ۔وَكَذَلِكَ خَمَّرَ فِي طِيْنِهِ أَنْسَانِ أَنْسٌ مَا خُلِقَ مِنْهُ وَأَنْسُ الْخَالِقِ الرَّحْمَانِ كَمَا يُوجَدُ بھر دیں اور نیز اس کی طینت میں دو انس رکھ دیئے ایک تو اُسی شے کا اُنس جس سے وہ مخلوق ہوا دوسرا خالق رحمان کا اُنس جیسے بچوں میں ماں باپ کا انس پایا جاتا ہے اس لئے اس کا نام انسان رکھا۔یہ اسم تثنیہ ہے تا کہ ہمیشہ کے لئے ان دو انسوں کا لفظ ان دو صفتوں کو بتاتا رہے پھر خدا تعالیٰ کے ارادہ سے قانون قدرت میں یوں تبدیلی واقع ہوئی کہ کئی تغیرات کے بعد ماؤں کے رحموں کے معرفت اس کی تَغَتُرَاتٍ فِي أَرْحَامِ أُمَّهَاتٍ فَسَمَّى التَّغَير الا آفرینش ہونے لگی سو پہلے غیر کا نام ماء دافق اور نطفہ ولى مَاءً دَافِقَا وَ نُطْفَةٌ وَالثَّانِي الَّذِي يَزْدَادُ فِيهِ رکھا۔اور دوسرے کا نام جس میں زندگی کا نشان ترقی رکھا۔اثرُ الْحَيَاتِ عَلَقَةً وَالثَّالِثُ الَّذِى زَادَ إِلى قَبْرِ کرتا ہے علقہ رکھا اور تیسرے کا نام جو درشتی میں الْمَضْحُ شِدَّةً وَضَاهَا في قَدْرِهِ نُعْمَةً فَسَمَّى لِهَذَا ایک لقمہ کے اندازہ کی مانند ہوا مضغہ رکھا اور چوتھا مُضْغَةً وَالرَّابِعُ الَّذِى زَادَ مِنْ قَدْرِ اللَّقَمَةِ وَمَعَ تغير جو صلابت اور قدر میں لقمہ سے ترقی کر گیا اور ذلِك بَلغَ إلى مُنْتَهَى الصَّلابَةِ وَ اَوْدَعَهَا اللهُ بڑی بڑی حکمتوں پر اس کا نظام خلقت مشتمل ہوا وہ حِكْمًا عَظِيْمَةً خِلْقَةً وَنِظَامًا فَسَمَّاهَا عِظَامًا عظام کے نام سے موسوم ہوا اس لئے وہ عظمت اور يمَا بَلَغَتِ الْعَظْمَةَ وَزَادَتْ شَرَفًا وَكَنَا وَمَقَامًا شرف اور قدر و مقام میں انتہا کو پہنچ گیا اور اس لئے بھی وَمَا رُكِبَ بَعْضُهَا بِالْعِظَامِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِین کہ ہڈیوں سے اس کے بعض حصے ترکیب پذیر وَالْخَامِسُ اللَّحْمُ الَّذِى زَادَ عَلَيْهَا كَالْحَلَةِ وَصَارَ ہوئے اور پانچویں کا نام کم ہوا اس لئے کہ تم عربی میں ذِي الْعِزَّةِ وَالْحِكْمَةِ وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ بَعْدَ