تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمنون وَتَفْصِيلُهُ أَنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ فَبَدَةَ کی تفصیل یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا خَلْقَهُ مِنْ سُلَالَةِ طِيْنٍ مُطَهَّرٍ مِنَ الْأَخْرَانِ کرنا چاہا تو اس کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے فَلِذلِكَ سَمَاهُ أَدَمَ عِنْدَ الْخِطَابِ وَ فِي الْكِتَابِ تمام قومی کا عطر تھا اور میلوں سے پاک تھا اس کا نام لمَا خَلَقَهُ مِنَ التُّرَابِ وَ لِمَا جَمَعَ فِيهِ فَضَائِلَ خطاب اور کتاب میں آدم رکھا اس لئے کہ اسے مٹی الْعَالَمِينَ، وَكَذَلِكَ خَمَّرَ فِي طِيْنِهِ أَنْسَانِ أَنْسٌ سے پیدا کیا اور سارے جہان کی خوبیاں اس میں مَا خُلِقَ مِنْهُ وَأَنْسُ الْخَالِقِ الرَّحْمَانِ كَمَا يُوجَدُ بھر دیں اور نیز اس کی طینت میں دو انس رکھ دیئے انسُ الْأُمِّ وَالْآبِ فِي الصَّبْيَانِ فَدَعَاهُ بِاسْمِ ایک تو اُسی شے کا اُنس جس سے وہ مخلوق ہوا دوسرا خالق رحمان کا اُنس جیسے بچوں میں ماں باپ کا اُنس الْإِنْسَانِ وَهُذَا مَبْنِي عَلَى التَّثْنِيَّةِ مِنَ الْمَنَانِ لِيَتَلَّ لَفْظُ الْأَنْسَانِ عَلى يَلْقَى پایا جاتا ہے اس لئے اس کا نام انسان رکھا۔ یہ اہم الصَّفَتَيْنِ إِلَى انْقِطَاعِ الزَّمَانِ وَيَكُونُ مِنَ تثنیہ ہے تا کہ ہمیشہ کے لئے ان دو انسوں کا لفظ ان دو صفتوں کو بتاتا رہے پھر خدا تعالیٰ کے ارادہ سے الْمُتَذَكَّرِيْنَ ثُمَّ بَدَّلَ قَانُونَ الْقُدْرَةِ بِإِذْنِ الله قانون قدرت میں یوں تبدیلی واقع ہوئی کہ کئی ذِي الْعِزَّةِ وَالْحِكْمَةِ وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ بَعْدَ تغیرات کے بعد ماؤں کے رحموں کے معرفت اس کی تَغَيَّرَاتٍ فِي أَرْحَامِ أُمَّهَاتٍ فَسَمَّى التَّغَيُّرَ الا آفرینش ہونے لگی و پہلے تغیر کا نام ماء دافق اور نطفہ سو پہلے ولى مَاءً دَافِقًا وَ نُطْفَةً وَالثَّانِي الَّذِي يَزْدَادُ فِيهِ رکھا۔ اور دوسرے کا نام جس میں زندگی کا نشان ترقی أَثَرُ الْحَيَاتِ عَلَقَةً وَالثَّالِثُ الَّذِي زَادَ إِلى قَدْرِ کرتا ہے علقہ رکھا اور تیسرے کا نام جو ورثہ جو درشتی میں الْمَضْعَ شِدَّةً وَضَاهَا فِي قَدْرِهِ لُقْمَةً فَسَمَّى لِهَذَا ایک لقمہ کے اندازہ کی مانند ہوا مضغہ رکھا اور چوتھا مُضْغَةً وَالرَّابِعُ الَّذِي زَادَ مِنْ قَدْرِ النُّقْمَةِ وَمَعَ تغير جو صلابت اور قدر میں لقمہ سے ترقی کر گیا اور ذلِكَ بَلَغَ إِلى مُنْتَهَى الصَّلَابَةِ وَ أَوْدَعَهَا اللهُ بڑی بڑی حکمتوں پر اس کا نظام خلقت مشتمل ہوا وہ حِكْمًا عَظِيمَةً خِلْقَةً وَنِظَامًا فَسَمَّاهَا عِظَامًا عظام کے نام سے موسوم ہوا اس لئے وہ عظمت اور بِمَا بَلَغَتِ الْعَظْمَةَ وَزَادَتْ شَرْفًا وَكَنَّا وَمَقَامًا شرف اور قدر و مقام میں انتہا کو پہنچ گیا اور اس لئے بھی و بِمَا رُكِبَ بَعْضُهَا بِالْعِظَامِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ۔ کہ ہڈیوں سے اس کے بعض حصے ترکیب پذیر وَالْخَامِسُ اللَّحْمُ الَّذِي زَادَ عَلَيْهَا كَالْحُلَةِ وَصَارَ ہوئے اور پانچویں کا نام محم ہوا اس لئے کہ ہم عربی میں