تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 56

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمنون ہے اور جعلی جلالی تو جہ فرماتی ہے کہ بلاؤں کے ساتھ اس کی آزمائش کرے تب وہ مضغہ کی طرح قضا و قدر کے دانتوں میں پیسا جاتا ہے اور خوب قیمہ کیا جاتا ہے غرض تیسرا درجہ سالک کے وجود کا مضغہ ہونے کی حالت ہے اور پھر چوتھا درجہ وہ ہے کہ جب انسان استقامت اور بلاؤں کی برداشت کی برکت سے آزمائے جانے کے بعد نقوش انسانی کا پورے طور پر انعام پاتا ہے یعنی روحانی طور پر اس کے لئے ایک صورت انسانی عطا ہوتی ہے اور انسان کی طرح اس کو دو آنکھیں دوکان اور دل اور دماغ اور تمام ضروری قومی اور اعضا عطا کئے جاتے ہیں اور بمقتضائے آیت اشدّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ (الفتح :۳۰) سختی اور نرمی مواضع مناسبہ میں ظاہر ہو جاتی ہے یعنی ہر ایک خلق اس کا اپنے اپنے محل پر صادر ہوتا ہے اور آداب طریقت تمام محفوظ ہوتے ہیں اور ہر ایک کام اور کلام حفظ حدود کے لحاظ سے بجالاتا ہے یعنی نرمی کی جگہ پر نرمی اور سختی کی جگہ پر سختی اور تواضع کی جگہ پر تواضع اور ترفع کی جگہ پر ترفع ایسا ہی تمام قومی سے اپنے اپنے محل پر کام لیتا ہے یہ درجہ جنین کے اس درجہ سے مشابہت رکھتا ہے کہ جب وہ مضغہ کی حالت سے ترقی کر کے انسان کی صورت کا ایک پورا خا کہ حاصل کر لیتا ہے اور بڑی کی جگہ پر ہڈی نمودار ہو جاتی ہے اور گوشت کی جگہ پر گوشت باقی رہتا ہے بڑی نہیں بنتی اور تمام اعضا میں با ہم تمیز کی پیدا ہو جاتی ہے لیکن ابھی خوبصورتی اور تازگی اور تناسب اعضا نہیں ہوتا صرف خا کہ ہوتا ہے جو نظر دقیق سے دکھائی دیتا ہے پھر بعد اس کے عنایت الہی توفیقات متواترہ سے موفق کر کے اور تزکیہ نفس کے کمال تک پہنچا کر اور فنافی اللہ کے انتہائی نقطہ تک کھینچ کر اس کے خا کہ کے بدن پر انواع اقسام کی برکات کا گوشت بھر دیتی ہے اور اس گوشت سے اس کی شکل کو چمکیلی اور اس کی تمام ہیکل کو آبدار کر دیتی ہے تب اس کے چہرہ پر کاملیت کا نور برستا ہے اور اس کے بدن پر کمال تام کی آب و تاب نظر آتی ہے اور یہ درجہ پیدائش کا جسمانی پیدائش کے اس درجہ سے مشابہ ہوتا ہے کہ جب جنین کے خاکہ کی ہڈیوں پر گوشت چڑھایا جاتا ہے اور خوبصورتی اور تناسب اعضا ظاہر کیا جاتا ہے۔پھر بعد اس کے روحانی پیدائش کا چھٹا درجہ ہے جو مصداق ثُمَّ انْسَانَهُ خَلْقًا اخر کا ہے۔وہ مرتبہ بقا ہے جو فنا کے بعد ملتا ہے جس میں روح القدس کامل طور پر عطا کیا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی کی روح انسان کے اندر پھونک دی جاتی ہے۔ایسا ہی یہ چھ مراتب خدا تعالیٰ کی پاک کلام میں بھی جمع ہیں۔اول حروف کا مرتبہ جو حامل کلام الہی اور کلمات کتاب اللہ کے لئے بطور تخم کے ہیں جن کو معانی مقصود سے کچھ بھی حصہ نہیں ہاں ان کے حصول کے لئے ایک استعداد بعیدہ رکھتے ہیں دوم کلمات کا مرتبہ جو اس تخم کے ذریعہ سے ظہور خارجی کے رنگ میں