تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 54
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴ سورة المؤمنون جب جنین ایک کافی حصہ اس کا لے لیتا ہے۔تب باذنہ تعالیٰ اس میں جان پڑ جاتی ہے تب وہ نباتی حالت سے جو صرف نشونما ہے منتقل ہو کر حیوانی حالت کی خاصیت پیدا کر لیتا ہے اور پیٹ میں حرکت کرنے لگتا ہے غرض یہ ثابت شدہ بات ہے کہ بچہ اپنی نباتی صورت سے حیوانی صورت کو کامل طور پر اس وقت قبول کرتا ہے کہ جب کہ عام طور پر موٹا گوشت اس کے بدن پر مناسب کمی بیشی کے ساتھ چڑھ جاتا ہے یہی بات ہے جس کو آج تک انسان کے مسلسل تجارب اور مشاہدات نے ثابت کیا ہے یہ وہی تمام صورت ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے اور مشاہدات کے ذریعہ سے بتو اثر ثابت ہے پھر اس پر اعتراض کرنا اگر نادانوں کا کام نہیں تو اور کس کا ہے؟ اب پھر ہم اپنے کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ چونکہ عالم صغیر میں جو انسان ہے سنت اللہ یہی ثابت ہوئی ہے کہ اس کے وجود کی تکمیل چھ مرتبوں کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے تو اسی قانون قدرت کی رہبری سے ہمیں معقولی طور پر یہ راہ ملتی ہے کہ دنیا کی ابتدا میں جو اللہ جل شانہ نے عالم کبیر کو پیدا کیا تو اس کی طرز پیدائش میں بھی یہی مراتب ستہ ملحوظ رکھے ہوں گے اور ہر ایک مرتبہ کو تفریق اور تقسیم کی غرض سے ایک دن یا ایک وقت سے مخصوص کیا ہو گا جیسا کہ انسان کی پیدائش کے مراتب ستہ چھ وقتوں سے خاص ہیں اور دنیا کی تمام قوموں کا سات دنوں پر اتفاق ہونا اور ایک دن تعطیل کا نکال کر چھ دنوں کو کاموں کے لئے خاص کرنا اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ چھ دن ان چھ دنوں کی یادگار چلے آتے ہیں کہ جن میں زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں سے بنایا گیا تھا۔اور اگر کوئی اب بھی تسلیم نہ کرے اور انکار سے باز نہ آوے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم نے تو عالم کبیر کے لئے عالم صغیر کی پیدائش کے مراتب ستہ کا ثبوت دے دیا اور جو کام کرنے کے دن بالا تفاق ہر ایک قوم میں مسلم ہیں ان کا چھ ہونا بھی ظاہر کر دیا اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کے تمام پیدائشی کام اس دنیا میں تدریجی ہیں تو پھر اگر منکر کی نظر میں یہ دلیل کافی نہیں تو اس پر واجب ہوگا کہ وہ بھی تو اپنے اس دعوے پر کوئی دلیل پیش کرے کہ خدا تعالیٰ نے یہ عالم جسمانی صرف ایک دم میں پیدا کر دیا تھا تدریجی طور پر پیدا نہیں کیا تھا۔ہر یک شخص جانتا ہے کہ وہی خدا اب بھی ہے جو پہلے تھا اور وہی خالقیت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جو پہلے جاری تھا۔اور صاف بدیہی طور پر نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر یک مخلوق کو تدریجی طور پر اپنے کمال وجود تک پہنچاتا ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پہلے وہ قوی تھا اور جلد کام کر لیتا تھا اور اب ضعیف ہے اور دیر سے کرتا ہے بلکہ یہی کہیں گے کہ اس کا قانون قدرت ہی ابتدا سے یہی ہے کہ وہ ہر یک