تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۵۳ سورة المؤمنون آسمان اور روحانی زمین کی طرف اشارہ ہے جس کی گٹھڑی کفار عرب کے روبرو کھل گئی اور فیضان سماوی زمین پر جاری ہو گئے اب پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ ھشتین مرد اور عورت کے جو آپس میں مل جاتے ہیں وہ اول مرتبہ تکوین کا ہے۔اور پھر ان میں ایک جوش آ کر وہ مجموعه طفتین جو قوت عاقدہ اور نطقتين منعقدہ اپنے اندر رکھتا ہے سرخی کی طرف مائل ہو جاتا ہے گویا وہ منی جو پہلے خون سے بنی تھی پھر اپنے اصلی رنگ کی طرف جو خونی ہے عود کر آتی ہے یہ دوسرا درجہ ہے پھر وہ خون جما ہواجس کا نام علقہ ہے ایک گوشت کا مضغہ ہو جاتا ہے جو انسانی شکل کا کچھ خاکہ نہایت دقیق طور پر اپنے اندر رکھتا ہے یہ تیسرا درجہ ہے اور اس درجہ پر اگر بچہ ساقط ہو جائے تو اس کے دیکھنے سے غور کی نظر سے کچھ خطوط انسان بننے کے اس میں دکھائی دیتے ہیں چنانچہ اکثر بچے اس حالت میں بھی ساقط ہو جاتے ہیں جن عورتوں کو بھی یہ اتفاق پیش آیا ہے یا دہ داریہ کا کام کرتی ہیں وہ اس حال سے خوب واقف ہیں پھر چوتھا درجہ وہ ہے جب مضغہ سے ہڈیاں بنائی جاتی ہیں جیسا کہ آیت فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا بیان فرما رہی ہے۔مگر المضغہ پر جو الف لام ہے وہ تخصیص کے لئے ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تمام مضغہ ہڈی نہیں بن جاتا بلکہ جہاں جہاں ہڈیاں درکار ہیں باز نہ تعالیٰ وہی نرم گوشت کسی قدر صلب ہو کر ہڈی کی صورت بن جاتا ہے اور کسی قدر بدستور نرم گوشت رہتا ہے۔اور اس درجہ پر انسانی شکل کا کھلا کھلا خاکہ طیار ہو جاتا ہے جس کے دیکھنے کے لئے کسی خورد بین کی ضرورت نہیں اس خاکہ میں انسان کا اصل وجود جو کچھ بننا چاہئے تھا بن چکتا ہے لیکن وہ ابھی اس لحم سے خالی ہوتا ہے جو انسان کے لئے بطور ایک موٹے اور شاندار اور چمکیلے لباس کے لئے ہے۔جس سے انسان کے تمام خط و خال ظاہر ہوتے ہیں اور بدن پر تازگی آتی ہے اور خوبصورتی نمایاں ہو جاتی ہے اور تناسب اعضا پیدا ہوتا ہے پھر بعد اس کے پانچواں درجہ وہ ہے کہ جب اس خاکہ پر تم یعنی موٹا گوشت بر عایت مواضع مناسبہ چڑھایا جاتا ہے یہ وہی گوشت ہے کہ جب انسان تپ وغیرہ سے بیمار رہتا ہے تو فاقہ اور بیماری کی تکالیف شاقہ سے وہ گوشت تحلیل ہو جاتا ہے اور بسا اوقات انسان ایسی لاغری کی حالت پر پہنچ جاتا ہے جو وہی پانچویں درجہ کا خاکہ یعنی مشت استخوان رہ جاتا ہے جیسے مدقوقوں اور مسلولوں اور اصحاب ذیا بیطس میں مرض کے انتہائی درجہ میں یہ صورت ظاہر ہو جاتی ہے۔اور اگر کسی کی حیات مقدر ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے بدن پر گوشت چڑھاتا ہے غرض یہ وہی گوشت ہے جس سے خوبصورتی اور تناسب اعضا اور رونق بدن پیدا ہوتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گوشت خاکہ طیار ہونے کے بعد آہستہ آہستہ جنین پر چڑھتارہتا ہے۔اور