تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمنون تو پھر آنکھ، ناک، کان زبان وغیرہ کو غیر محل پر کب استعمال کرنے لگا کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص اول درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنی درجہ کی نیکیاں خود بخود عمل میں آتی جاتی ہیں۔مثلاً جب خشوع خضوع سے دعا مانگنے لگا تو پھر اس کے ساتھ ہی لغو سے بھی اعراض کرنا پڑا اور جب لغو سے اعراض کیا تو پھر زکوۃ کے ادا کرنے میں دلیر ہونے لگا اور جب اپنے مال کی نسبت وہ اس قدر محتاط ہو گیا تو پھر غیروں کے حقوق چھیننے سے بدرجہ اولی بچنے لگا اس لئے اس کے آگے فرمایا وَ الَّذِينَ هُمْ لِأَمَنتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رعُونَ کیونکہ جو شخص دوسرے کے حق میں دست اندازی نہیں کرتا اور جو حقوق اس کے ذمہ ہیں ان کو ادا کرتا ہے اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنے عہدوں کا پکا ہو اور دوسرے کی امانتوں میں خیانت کرنے سے بچنے والا ہو اس لئے بطور نتیجہ کے فرمایا کہ جب ان لوگوں میں یہ وصف پائے جاتے ہوں تو پھر لازمی بات ہے کہ وہ اپنے عہدوں کے بھی پکے ہوں گے۔پھر ان سب باتوں کے بعد فرمایا وَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ یعنی ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سیکھے جیسے فرمایا وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ الا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷) الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۰/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۴) وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی ایماندار وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں سے پر ہیز کرتے ہیں اور اپنا وقت بیہودہ کاموں میں نہیں کھوتے۔برائین احمدیہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۶۱،۴۶۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے۔مومن وہ ہوتے ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۶ ) (احکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷ارنومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۹) ایک اور اعتراض ہے جو بعض نا واقف آریہ پیش کیا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (یونس : ۴) یعنی خدا نے جو تمہارا رب ہے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں بنایا اور پھر عرش پر ٹھہرا یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے یہ تو تسلیم کیا کہ خدا تعالیٰ کے کام اکثر تدریجی ہیں جیسا کہ اب بھی اس کی خالقیت جو جمادات اور نباتات اور حیوانات میں اپنا کام کر رہی ہے تدریجی طور پر ہی ہر ایک چیز کو اس کی خلقت کاملہ تک پہنچاتی ہے لیکن چھ