تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 47

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ سورة المؤمنون کرتا ہے جو دوسرے کے ساتھ کبھی نہیں کرتا۔اور اس کو اپنے ملکوت اور اسرار کا وہ سیر کراتا ہے جو دوسرے کو ہر گز نہیں دکھلاتا۔اور اس کے لئے وہ کام اپنے ظاہر کرتا ہے جو دوسروں کے لئے ایسے کام بھی ظاہر نہیں کرتا۔اور اس قدر اس کی نصرت اور مدد کرتا ہے کہ لوگوں کو تعجب میں ڈالتا ہے۔اس کے لئے خوارق دکھلاتا ہے اور معجزات ظاہر کرتا اور ہر ایک پہلو سے اس کو غالب کر دیتا ہے اور اس کی ذات میں ایک قوت کشش رکھ دیتا ہے جس سے ایک جہان اُس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور وہی باقی رہ جاتے ہیں جن پر شقاوت از لی غالب ہے۔پس ان تمام باتوں سے ظاہر ہے کہ مومن کامل کی پاک تبدیلی کے ساتھ خدا تعالیٰ بھی ایک نئی صورت کی تجلی سے اُس پر ظاہر ہوتا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس نے انسان کو اپنے لئے پیدا کیا ہے کیونکہ جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا شروع کرے تو اُسی دن سے بلکہ اُسی گھڑی سے بلکہ اُسی دم سے خدا تعالیٰ کا رجوع اُس کی طرف شروع ہو جاتا ہے۔اور وہ اُس کا متولی اور متکلفل اور حامی اور ناصر بن جاتا ہے۔اور اگر ایک طرف تمام دنیا ہو اور ایک طرف مومن کامل تو آخر غلبہ اُسی کو ہوتا ہے کیونکہ خدا اپنی محبت میں صادق ہے اور اپنے وعدوں میں پورا۔وہ اس کو جو در حقیقت اُس کا ہو جاتا ہے ہر گز ضائع نہیں کرتا۔ایسا مومن آگ میں ڈالا جاتا ہے اور گلزار میں سے نکلتا ہے۔وہ ایک گرداب میں دھکیل دیا جاتا ہے اور ایک خوشنما باغ میں سے نمودار ہو جاتا ہے۔دشمن اس کے لئے بہت منصو بے کرتے اور اس کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔لیکن خدا ان کے تمام مکروں اور منصوبوں کو پاش پاش کر دیتا ہے کیونکہ وہ اس کے ہر قدم کے ساتھ ہوتا ہے۔اس لئے آخر اس کی ذلت چاہنے والے ذلت کی مار سے مرتے ہیں اور نا مرادی اُن کا انجام ہوتا ہے۔لیکن وہ جو اپنے تمام دل اور تمام جان اور تمام ہمت کے ساتھ خدا کا ہو گیا ہے وہ نامراد ہرگز نہیں مرتا اور اُس کی عمر میں برکت دی جاتی ہے اور ضرور ہے کہ وہ جیتا ر ہے جب تک اپنے کاموں کو پورا کر لے۔تمام برکتیں اخلاص میں ہیں اور تمام اخلاص خدا کی رضا جوئی میں اور تمام خدا کی رضا جوئی اپنی رضا کے چھوڑنے میں۔یہیں موت ہے جس کے بعد زندگی ہے مبارک وہ جو اس زندگی میں سے حصہ لے۔اب واضح ہو کہ جہاں تک ہم نے سورۃ المؤمنون کی آیات مروحہ بالا کے معجزہ ہونے کی نسبت لکھنا تھا وہ سب ہم لکھ چکے اور بخوبی ثابت کر چکے کہ سورۃ موصوفہ کی ابتدا میں مومن کے وجود روحانی کے چھ مراتب قرار دیتے ہیں اور مرتبہ ششم خلق آخر کا رکھا ہے۔یہی مراتب ستیہ سورۃ موصوفہ بالا میں جسمانی پیدائش کے بارہ۔