تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 46

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة المؤمنون مومن پر کھولے جاتے ہیں اور اس درجہ کا مومن ایمانی ترقیات کے تمام مراتب طے کر کے ان ظلی کمالات کی وجہ سے جو حضرت عزت کے کمالات سے اُس کو ملتے ہیں آسمان پر خلیفتہ اللہ کا لقب پاتا ہے کیونکہ جیسا کہ ایک شخص جب آئینہ کے مقابل پر کھڑا ہوتا ہے تو تمام نقوش اس کے منہ کے نہایت صفائی سے آئینہ میں منعکس ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی اس درجہ کا مومن جو نہ صرف ترک نفس کرتا ہے بلکہ نفلی و وجود اور ترک نفس کے کام کو اس درجہ کے کمال تک پہنچاتا ہے کہ اس کے وجود میں سے کچھ بھی نہیں رہتا اور صرف آئینہ کے رنگ میں ہو جاتا ہے۔تب ذات الہی کے تمام نقوش اور تمام اخلاق اس میں مندرج ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آئینہ جو ایک سامنے کھڑے ہونے والے منہ کے تمام نقوش اپنے اندر لے کر اس منہ کا خلیفہ ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مومن بھی ظلمی طور پر اخلاق اور صفات الہیہ کو اپنے اندر لے کر خلافت کا درجہ اپنے اندر حاصل کرتا ہے اور نکلی طور پر الہی صورت کا مظہر ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا غیب الغیب ہے اور اپنی ذات میں وراء الوراء ہے ایسا ہی یہ مومن کامل اپنی ذات میں غیب الغیب اور وراء الوراء ہوتا ہے۔دنیا اس کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی۔کیونکہ وہ دنیا کے دائرہ سے بہت ہی دُور چلا جاتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ خدا جو غیر متبدل اور جی و قیوم ہے وہ مومن کامل کی اُس پاک تبدیلی کے بعد جب کہ مومن خدا کے لئے اپنا وجود بالکل کھو دیتا ہے اور ایک نیا چولا پاک تبدیلی کا پہن کر اُس میں سے اپنا سر نکالتا ہے۔تب خدا بھی اس کے لئے اپنی ذات میں ایک تبدیلی کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ خدا کی ازلی ابدی صفات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔نہیں بلکہ وہ قدیم سے اور ازل سے غیر متبدل ہے۔لیکن یہ صرف مومن کامل کے لئے جلوہ قدرت ہوتا ہے اور ایک تبدیلی جس کی ہم گنہ نہیں سمجھ سکتے مومن کی تبدیلی کے ساتھ خدا میں بھی ظہور میں آجاتی ہے مگر اس طرح پر کہ اُس کی غیر متبدل ذات پر کوئی گرد و غبار حدوث کا نہیں بیٹھتا۔وہ اسی طرح غیر متبدل ہوتا ہے جس طرح وہ قدیم سے ہے لیکن یہ تبدیلی جو مومن کی تبدیلی کے وقت ہوتی ہے یہ اس قسم کی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مومن خدائے تعالیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے تو خدا اس کی نسبت تیز حرکت کے ساتھ اُس کی طرف آتا ہے اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ تبدیلیوں سے پاک ہے ایسا ہی وہ حرکتوں سے بھی پاک ہے۔لیکن یہ تمام الفاظ استعارہ کے رنگ میں بولے جاتے ہیں اور بولنے کی اس لئے ضرورت پڑتی ہے کہ تجربہ شہادت دیتا ہے کہ جیسے ایک مومن خدائے تعالیٰ کی راہ میں نیستی اور فنا اور استہلاک کر کے اپنے تئیں ایک نیا وجود بناتا ہے اس کی ان تبدیلیوں کے مقابل پر خدا بھی اس کے لئے ایک نیا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہ معاملات