تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 42
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۲ سورة المؤمنون لغو کاموں سے چھڑاتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے رازق ہونے پر ایک قومی ایمان پیدا کر دیتی ہے۔اور نور توکل دل میں ڈال دیتی ہے۔تب مال جو ایک پارہ جگر سمجھا جاتا ہے بہت آسانی اور شرح صدر سے مومن اس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اور وہ ضعف جو بخل کی حالت میں نومیدی سے پیدا ہوتا ہے۔اب خدا تعالیٰ پر بہت سی امید میں ہو کر وہ تمام ضعف جاتا رہتا ہے۔اور مال دینے والے کی محبت مال کی محبت سے زیادہ ہو جاتی ہے۔پھر بعد اس کے چوتھی حالت ہے جس سے نفس امارہ بہت ہی پیار کرتا ہے اور جو تیسری حالت سے بدتر ہے کیونکہ تیسری حالت میں تو صرف مال کا اپنے ہاتھ سے چھوڑنا ہے۔مگر چوتھی حالت میں نفس انارہ کی شہوات محرمہ کو چھوڑنا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مال کا چھوڑنا بہ نسبت شہوات کے چھوڑنے کے انسان پر طبعا سہل ہوتا ہے۔اس لئے یہ حالت بہ نسبت حالات گذشتہ کے بہت شدید اور خطرناک ہے اور فطرتا انسان کو شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق کے بہت پیارا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ مال کو جواُس کے نزدیک مدارِ آسائش ہے بڑی خوشی سے شہوات نفسانیہ کی راہ میں فدا کر دیتا ہے۔اور اس حالت کے خوفناک جوش کی شہادت میں یہ آیت کافی ہے وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْ لَا اَنْ رَّابُرُهَانَ رَبِّهِ (یوسف :۲۵) یعنی یہ ایسا منہ زور جوش ہے جو اس کا فرو ہونا کسی بر بانِ قومی کا محتاج ہے۔پس ظاہر ہے کہ درجہ چہارم پر قوت ایمانی : بہ نسبت درجہ سوم کے بہت قوی اور زبردست ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت اور جبروت کا مشاہدہ بھی پہلے کی نسبت اُس میں زیادہ ہوتا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ یہ بھی اس میں نہایت ضروری ہے کہ جس لذت ممنوعہ کو دور کیا گیا ہے اس کے عوض میں روحانی طور پر کوئی لذت بھی حاصل ہو۔اور جیسا کہ بخل کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالی کی رازقیت پر قومی ایمان درکار ہے۔اور خالی جیب ہونے کی حالت میں ایک قومی تو گل کی ضرورت ہے تا بخل بھی دُور ہو اور غیبی فتوح پر اُمید بھی پیدا ہو جائے۔ایسا ہی شہوات نا پاک نفسانیہ کے دُور کرنے کے لئے اور آتش شہوت سے مخلصی پانے کے لئے اس آگ کے وجود پر قومی ایمان ضروری ہے جو جسم اور روح دونوں کو عذاب شدید میں ڈالتی ہے اور نیز ساتھ اس کے اُس رُوحانی لذت کی ضرورت ہے جو ان کثیف لذتوں سے بے نیاز اور مستغنی کر دیتی ہے۔جو شخص شہوات نفسانی محترمہ کے پنجہ میں اسیر ہے وہ ایک اثر دہا کے منہ میں ہے جو نہایت خطرناک زہر رکھتا ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ جیسا کہ لغو حرکات کی بیماری سے بخل کی بیماری بڑھ کر ہے اسی طرح بخل کی بیماری کے مقابل پر شہوات نفسانیہ محترمہ کے پنجہ میں