تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 35
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵ سورة المؤمنون گرے اور جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے مال سے ، خدمت سے، ہر ایک طور کی اطاعت سے ایسا قرب پیدا کرے کہ اس کے دل کے اندر داخل ہو جائے اور با ایں ہمہ نہایت درجہ پر نیک ظن ہو اور اس کو نہایت درجہ کا متقی سمجھے اور اس کی مقدس شان کے برخلاف ایک خیال بھی دل میں لانا کفر خیال کرے اور اس قسم کی طرح طرح کی جاں شاری دکھلا کر بچے اعتقاد کو اس پر ثابت اور روشن کر دے اور اس کی مثل دنیا میں کسی کو بھی نہ سمجھے اور جان سے ، مال سے ، آبرو سے اُس پر فدا ہو جائے۔اور کوئی کلمہ کسر شان کا کسی پہلو سے اس کی نسبت زبان پر نہ لائے اور نہ دل میں۔اور اس بات کو اس کی نظر میں بپایہ ثبوت پہنچا دے کہ در حقیقت وہ ایسا ہی معتقد اور مرید ہے اور با ایں ہمہ صبر سے انتظار کرے اور اگر پچاس دفعہ بھی اپنے کام میں نامرادر ہے پھر بھی اعتقاد اور یقین میں سُست نہ ہو۔کیونکہ یہ قوم سخت نازک دل ہوتی ہے اور اُن کی فراست چہرہ کو دیکھ کر پہچان سکتی ہے کہ یہ شخص کس درجہ کا اخلاص رکھتا ہے اور یہ قوم با وجود نرم دل ہونے کے نہایت بے نیاز ہوتی ہے۔اُن کے دل خدا نے ایسے بے نیاز پیدا کئے ہیں کہ متکبر اور خود غرض اور منافق طبع انسان کی کچھ پروا نہیں کرتے۔اس قوم سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اس قدر غلامانہ اطاعت اُن کی اختیار کرتے ہیں کہ گویا مر ہی جاتے ہیں۔مگر وہ شخص جو قدم قدم پر بدظنی کرتا ہے اور دل میں کوئی اعتراض رکھتا ہے اور پوری محبت اور ارادت نہیں رکھتا وہ بجائے فائدہ کے ہلاک ہوتا ہے۔اب ہم اس تقریر کے بعد کہتے ہیں کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے مومن کے وجود روحانی کے مراتب ستہ بیان کر کے ان کے مقابل پر وجود جسمانی کے مراتب رستہ دکھلائے ہیں یہ ایک علمی معجزہ ہے اور جس قدر کتا بیں دنیا میں کتب سماوی کہلاتی ہیں یا جن حکیموں نے نفس اور الہیات کے بارے میں تحریریں کی ہیں اور یا جن لوگوں نے صوفیوں کی طرز پر معارف کی باتیں لکھی ہیں کسی کا ذہن ان میں سے اس بات کی طرف سبقت نہیں لے گیا کہ یہ مقابلہ جسمانی اور روحانی وجود کا دکھلاتا۔اگر کوئی شخص میرے اس دعوے سے منکر ہو اور اس کا گمان ہو کہ یہ مقابلہ روحانی اور جسمانی کسی اور نے بھی دکھلایا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس علمی معجزہ کی نظیر کسی اور کتاب میں سے پیش کر کے دکھلاوے۔اور میں نے تو توریت اور انجیل اور ہندوؤں کے وید کو بھی دیکھا ہے۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قسم کا علمی معجزہ میں نے بجز قرآن شریف کے کسی کتاب میں نہ پایا۔اور صرف اس معجزہ پر حصر نہیں بلکہ تمام قرآن شریف ایسے ہی علمی معجزات سے پر ہے جن پر ایک معقل مند نظر ڈال کر سمجھ سکتا ہے کہ یہ اُسی خدائے قادر مطلق کا کلام ہے جس کی قدرتیں زمین و آسمان کی مصنوعات میں