تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 36

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة المؤمنون ظاہر ہیں۔وہی خدا جو اپنی باتوں اور کاموں میں بے مثل و مانند ہے پھر جب ہم ایک طرف ایسے ایسے معجزات قرآن شریف میں پاتے ہیں اور دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمیت کو دیکھتے ہیں اور اس بات کو اپنے تصور میں لاتے ہیں کہ آپ نے ایک حرف بھی کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا اور نہ آپ نے طبعی اور فلسفہ سے کچھ حاصل کیا تھا بلکہ آپ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے تھے کہ جوسب کی سب اُمی اور ناخواندہ تھی اور ایک وحشیانہ زندگی رکھتی تھی اور با ایں ہمہ آپ نے والدین کی تربیت کا زمانہ بھی نہیں پایا تھا۔تو ان سب باتوں کو مجموعی نظر کے ساتھ دیکھنے سے قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے پر ایک ایسی چمکتی ہوئی بصیرت ہمیں ملتی ہے اور اس کا علمی معجزہ ہونا ایسے یقین کے ساتھ ہمارے دل میں بھر جاتا ہے کہ گویا ہم اس کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتے ہیں۔غرض جب کہ بدیہی طور پر ثابت ہے کہ سورۃ المؤمنون کی یہ تمام آیات جو ابتدائے سورۃ سے لے کر آیت فَتَبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ تک ہیں علمی معجزہ ہیں۔پس اس میں کیا شک ہے کہ آیت فَتَبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الخلقین علمی معجزہ کی ایک جزو ہے اور بباعث معجزہ کے جزو ہونے کے معجزہ میں داخل ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔اور یادر ہے کہ یہ علمی معجزہ مذکورہ بالا ایک ایسی صاف اور کھلی کھلی اور روشن اور بدیہی سچائی ہے کہ اب خدا تعالیٰ کی کلام کی رہبری اور یاد دہانی کے بعد عقل بھی اپنے معقولی علوم میں بہت فخر کے ساتھ اس کو داخل کرنے کے لئے طیار ہے۔کیونکہ عند العقل یہ بات ظاہر ہے کہ سب سے پہلے جو ایک سعید الفطرت آدمی کے نفس کو خدا تعالیٰ کی طرف اس کی طلب میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہ خشوع اور انکسار ہے اور خشوع سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے فروتنی اور تواضع اور تضرع کی حالت اختیار کی جائے اور جو اس کے مقابل پر اخلاق رویہ ہیں جیسے تکبر اور تعجب اور ریا اور لا پروائی اور بے نیازی ان سب کو خدا تعالیٰ کے خوف سے چھوڑ دیا جائے اور یہ بات بدیہی ہے کہ جب تک انسان اپنے اخلاق رقیہ کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک اُن اخلاق کے مقابل پر جو اخلاق فاضلہ ہیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں اُن کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ دوضر ہیں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ سورہ بقر کی ابتدا میں اس نے فرما یا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی قرآن شریف ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو متقی ہیں۔یعنی وہ لوگ جو تکبر نہیں کرتے اور خشوع اور انکسار سے خدا تعالیٰ کے کلام میں غور کرتے ہیں وہی ہیں جو آخر کو ہدایت پاتے