تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 30

سورة المؤمنون تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام آوے مگر بجز ارادہ الہیہ کے ظاہر نہیں ہوتی۔بالخصوص وہ منکروں اور منافقوں اور نشست اعتقادلوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح اُن کو سمجھتے ہیں اور وہ بے نیازی ان کی ایک ایسی شان رکھتی ہے جیسا کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت برقع میں اپنا چہرہ چھپائے رکھے۔اور اسی بے نیازی کا ایک شعبہ یہ ہے کہ جب کوئی شریر انسان اُن پر بدظنی کرے تو بسا اوقات بے نیازی کے جوش سے اُس بدظنی کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں۔کیونکہ تخلق باخلاق اللہ رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ( البقرة :۱۱) جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ کوئی معجزہ اُن سے ظاہر ہو تو اُن کے دلوں میں ایک جوش پیدا کر دیتا ہے اور ایک امر کے حصول کے لئے سخت کرب اور قلق اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے تب وہ بے نیازی کا برقع اپنے منہ پر سے اُتار لیتے ہیں اور وہ حسن اُن کا جو بجز خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں دیکھتا وہ آسمان کے فرشتوں پر اور ذرہ ذرہ پر نمودار ہو جاتا ہے۔اور اُن کا منہ پر سے برقع اٹھانا یہ ہے کہ وہ اپنے کامل صدق اور صفا کے ساتھ اور اس رُوحانی حسن کے ساتھ جس کی وجہ سے وہ خدا کے محبوب ہو گئے ہیں اس خدا کی طرف ایک ایسا خارق عادت رجوع کرتے ہیں اور ایک ایسے اقبال علی اللہ کی اُن میں حالت پیدا ہو جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی فوق العادت رحمت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ساتھ ہی ذرہ ذرہ اس عالم کا کھنچا چلا آتا ہے۔اور اُن کی عاشقانہ حرارت کی گرمی آسمان پر جمع ہوتی اور بادلوں کی طرح فرشتوں کو بھی اپنا چہرہ دکھا دیتی ہے اور اُن کی درد میں جو رعد کی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں ایک سخت شور ملاء اعلیٰ میں ڈال دیتی ہیں تب خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ بادل پیدا ہو جاتے ہیں جن سے رحمت الہی کا وہ مینہ برستا ہے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔اُن کی روحانیت جب اپنے پورے سوز و گداز کے ساتھ کسی عقدہ کشائی کے لئے توجہ کرتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔کیونکہ وہ لوگ باعث اس کے جو خدا سے ذاتی محبت رکھتے ہیں محبوبانِ الہی میں داخل ہوتے ہیں۔تب ہر ایک چیز جو خدا تعالیٰ کے زیر حکم ہے۔اُن کی مدد کے لئے جوش مارتی ہے لے اور رحمت الہی محض اُن کی مراد پوری کرنے کے لئے ایک خلق جدید کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔اور وہ امور ظاہر ہوتے ہیں جو اہل دنیا کی نظر میں غیر ممکن معلوم ہوتے ہیں اور جن سے سفلی علوم محض نا آشنا ہیں۔ایسے لوگوں کو خدا تو نہیں کہہ سکتے مگر قرب اور علاقہ محبت اُن کا کچھ ایسا صدق اور صفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے لے کا فر اور دشمن بھی ایک قسم کی ان کی مدد کرتے ہیں کہ ایذاء اور ظلم کے ساتھ ان کے دل کو دکھ دیتے اور ان کی روحانیت کو جوش میں لاتے ہیں۔تا دل مرد خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدار سوانه کرد هنه ا