تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 25

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ سورة المؤمنون جس مرتبہ پر مومن کومحسوس ہوتا ہے کہ خدا کی محبت اس کے لئے روٹی اور پانی کا کام دیتی ہے۔ینی پیدائش اس وقت ہوتی ہے جب پہلے روحانی قالب تمام تیار ہو چکتا ہے۔اور پھر وہ رُوح جو محبت ذاتیہ الہیہ کا ایک شعلہ ہے ایسی مومن کے دل پر آپڑتا ہے اور یک دفعہ طاقت بالا نشیمن بشریت سے بلند تر اُس کو لے جاتی ہے۔اور یہ مرتبہ وہ ہے جس کو روحانی طور پر خلق آخر کہتے ہیں۔اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ اپنی ذاتی محبت کا ایک افروختہ شعلہ جس کو دوسرے لفظوں میں روح کہتے ہیں مومن کے دل پر نازل کرتا ہے اور اس سے تمام تاریکیوں اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دُور کر دیتا ہے۔اور اس رُوح کے پھونکنے کے ساتھ ہی وہ حسن جو ادنیٰ مرتبہ پر تھا کمال کو پہنچ جاتا ہے اور ایک روحانی آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے اور گندی زندگی کی کبودگی بکلی دور ہو جاتی ہے اور مومن اپنے اندر محسوس کر لیتا ہے کہ ایک نئی روح اس کے اندر داخل ہوگئی ہے جو پہلے نہیں تھی۔اُس رُوح کے ملنے سے ایک عجیب سکینت اور اطمینان مومن کو حاصل ہو جاتی ہے اور محبت ذاتیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور عبودیت کے پودہ کی آبپاشی کرتی ہے اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی اس درجہ پر وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو جلا کر الوہیت کا قبضہ اس پر کر دیتی ہے۔اور وہ آگ تمام اعضاء پر احاطہ کر لیتی ہے۔تب اُس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ میں تپایا جائے یہاں تک کہ سُرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے۔اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ا ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے۔اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے۔اور اس مقام پر استعارہ کے رنگ میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ خدا اس مرتبہ کے مومن کے اندر داخل ہوتا اور اس کے رگ وریشہ میں سرایت کرتا اور اس کے دل کو اپنا تخت گاہ بنالیتا ہے۔تب وہ اپنی رُوح سے نہیں بلکہ خدا کی رُوح سے دیکھتا اور خدا کی رُوح سے سنتا اور خدا کی رُوح سے بولتا اور خدا کی رُوح سے چلتا اور خدا کی رُوح سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ پر نیستی اور استہلاک کے مقام میں ہوتا ہے اور خدا کی روح اس پر اپنی محبت ذاتیہ کے ساتھ تجلی فرما کر حیات ثانی اس کو بخشتی ہے۔پس اس وقت روحانی طور پر اس پر یہ آیت صادق آتی