تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 17
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۷ سورة المؤمنون وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكوة فعِلُونَ یعنی مومن وہ ہیں جو اپنے نفس کو بخل سے پاک کرنے کے لئے اپنا عزیز مال خدا کی راہ میں دیتے ہیں اور اس فعل کو وہ آپ اپنی مرضی سے اختیار کرتے ہیں۔پس وجود روحانی کی اس مرتبہ سوم میں وہی تین خوبیاں پائی جاتی ہیں جو وجود جسمانی کے مرتبہ سوم میں یعنی مضغہ ہونے کی حالت میں پائی جاتی ہیں۔کیونکہ یہ حالت جو بخل سے پاک ہونے کے لئے اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنی محنت سے حاصل کردہ سرمایہ محض للہ دوسرے کو دینا بہ نسبت اس حالت کے جو محض لغو باتوں اور لغو کاموں سے پر ہیز کرنا ہے ایک ترقی یافتہ حالت ہے اور اس میں صریح اور بدیہی طور پر بخل کی پلیدی سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور خدائے رحیم سے تعلق بڑھتا ہے کیونکہ اپنے مال عزیز کو خدا کے لئے چھوڑنا بہ نسبت لغو باتوں کے چھوڑنے کے زیادہ تر نفس پر بھاری ہے اس لئے اس زیادہ تکلیف اٹھانے کے کام سے خدا سے تعلق بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور باعث ایک مشقت کا کام بجالانے کے ایمانی شدت اور صلابت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔اب اس کے بعد روحانی وجود کا چوتھا درجہ وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِم حفظون یعنی تیسرے درجہ سے بڑھ کر مومن وہ ہیں جو اپنے تئیں نفسانی جذبات اور شہوات ممنوعہ سے بچاتے ہیں۔یہ درجہ تیسرے درجہ سے اس لئے بڑھ کر ہے کہ تیسرے درجہ کا مومن تو صرف مال کو جو اُس کے نفس کو نہایت پیارا اور عزیز ہے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے لیکن چوتھے درجہ کا مومن وہ چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں شمار کرتا ہے جو مال سے بھی زیادہ پیاری اور محبوب ہے یعنی شہوات نفسانیہ۔کیونکہ انسان کو اپنی شہوات نفسانیہ سے اس قدر محبت ہے کہ وہ اپنی شہوات کے پورا کرنے کے لئے اپنے مال عزیز کو پانی کی طرح خرچ کرتا ہے اور ہزار ہا روپیہ شہوات کے پورا کرنے کے لئے برباد کر دیتا ہے اور شہوات کے حاصل کرنے کے لئے مال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا۔جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسے نجس طبع اور بخیل لوگ جو ایک محتاج بھو کے اور ننگے کو باعث سخت بخل کے ایک پیسہ بھی دے نہیں سکتے شہوات نفسانیہ کے جوش میں بازاری عورتوں کو ہزار ہارو پیہ دے کر اپنا گھر ویران کر لیتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ سیلاب شہوت ایساتند اور تیز ہے کہ بخل جیسی نجاست کو بھی بہا لے جاتا ہے۔اس لئے یہ بدیہی امر ہے کہ بہ نسبت اس قوت ایمانی کے جس کے ذریعہ سے بخل دور ہوتا ہے اور انسان اپنا عزیز مال خدا کے لئے دیتا ہے یہ قوت ایمانی جس کے ذریعہ سے انسان شہوات نفسانیہ کے طوفان سے بچتا ہے نہایت زبردست اور شیطان کا مقابلہ کرنے میں