تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 16
۱۶ سورة المؤمنون تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وجود کا تیسرا درجہ وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكوة فعِلُونَ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ وہ مومن کہ جو پہلی دو حالتوں سے بڑھ کر قدم رکھتا ہے وہ صرف بیہودہ اور لغو باتوں سے ہی کنارہ کش نہیں ہوتا بلکہ بخل کی پلیدی کو دور کرنے کے لئے جو طبعاً ہر ایک انسان کے اندر ہوتی ہے زکوۃ بھی دیتا ہے یعنی خدا کی راہ میں ایک حصہ اپنے مال کا خرچ کرتا ہے۔زکوۃ کا نام اسی لئے زکوۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے للہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہوجاتا ہے۔اور جب بخل کی پلیدی جس سے انسان طبعاً بہت تعلق رکھتا ہے انسان کے اندر سے نکل جاتی ہے تو وہ کسی حد تک پاک بن کر خدا سے جو اپنی ذات میں پاک ہے ایک مناسبت پیدا کر لیتا ہے کوئی اس پاک سے جو دل لگا وے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے اور یہ مرتبہ پہلی دو حالتوں میں پایا نہیں جاتا۔کیونکہ صرف خشوع اور معجز و نیاز یا صرف لغو باتوں کو ترک کرنا ایسے انسان سے بھی ہو سکتا ہے جس میں ہنوز بخل کی پلیدی موجود ہے لیکن جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اس مال عزیز کو ترک کرتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدار اور معیشت کا انحصار ہے اور جو محنت اور تکلیف اور عرقریزی سے کمایا گیا ہے تب بخل کی پلیدی اس کے اندر سے نکل جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایمان میں بھی ایک شدت اور صلابت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دونوں حالتیں مذکورہ بالا جو پہلے اس سے ہوتی ہیں اُن میں یہ پاکیزگی حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایک چھپی ہوئی پلیدی ان کے اندر رہتی ہے۔اس میں حکمت یہی ہے کہ لغویات سے منہ پھیرنے میں صرف ترک شہر ہے اور شر بھی ایسی جس کی زندگی اور بقا کے لئے کچھ ضرورت نہیں اور نفس پر اس کے ترک کرنے میں کوئی مشکل نہیں لیکن اپنا محنت سے کمایا ہوا مال محض خدا کی خوشنودی کے لئے دینا یہ کسب خیر ہے جس سے وہ نفس کی ناپا کی جو سب نا پاکیوں سے بدتر ہے یعنی بخل دُور ہوتا ہے لہذا یہ ایمانی حالت کا تیسرا درجہ ہے جو پہلے دو درجوں سے اشرف اور افضل ہے اور اس کے مقابل پر جسمانی وجود کے تیار ہونے میں مضغہ کا درجہ ہے جو پہلے دو درجوں نطفہ اور علقہ سے فضیلت میں بڑھ کر ہے اور پاکی میں خصوصیت رکھتا ہے کیونکہ نطفہ اور علقہ دونوں نجاست خفیفہ سے ملوث ہیں مگر مضغہ پاک حالت میں ہے اور جس طرح رحم میں مضغہ کو بہ نسبت نطفہ اور علقہ کے ایک ترقی یافتہ حالت اور پاکیزگی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ نسبت نطفہ اور علقہ کے رحم سے اس کا تعلق بھی زیادہ ہو جاتا ہے اور شدت اور صلابت بھی زیادہ ہو جاتی ہے یہی حالت وجود روحانی کی مرتبہ سوم کی ہے جس کی تعریف خدا تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے