تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 15

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة المؤمنون روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ بھی جو مومن کا معرض عن اللغو ہونا ہے روحانی طور پر علقہ ہے کیونکہ اس مرتبہ پر مومن کے دل پر ہیبت اور عظمت الہی وارد ہو کر اس کو لغو باتوں اور لغو کاموں سے چھڑاتی ہے اور ہیبت اور عظمت الہی سے متاثر ہوکر ہمیشہ کے لئے لغو باتوں اور لغو کاموں کو چھوڑ دینا یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تعلق باللہ کہتے ہیں لیکن یہ تعلق جو صرف لغویات کے ترک کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے یہ ایک خفیف تعلق ہے کیونکہ اس مرتبہ پر مومن صرف لغویات سے تعلق توڑتا ہے لیکن نفس کی ضروری چیزوں سے اور ایسی باتوں سے جن پر معیشت کی آسودگی کا حصہ ہے ابھی اس کے دل کا تعلق ہوتا ہے اس لئے ہنوز ایک حصہ پلیدی کا اس کے اندر رہتا ہے۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے وجو د روحانی کے اس مرتبہ کو عالقہ سے مشابہت دی ہے اور عالقہ خون جما ہوا ہوتا ہے جس میں باعث خون ہونے کے ایک حصہ پلیدی کا باقی ہوتا ہے اور اس مرتبہ میں یہ نقص اس لئے رہ جاتا ہے کہ ایسے لوگ پورے طور پر خدا تعالیٰ سے ڈرتے نہیں اور پورے طور پر ان کے دلوں میں حضرت علات جل شانہ کی عظمت اور ہیبت نہیں بیٹھی اس لئے صرف نکمی اور لغو باتوں کے چھوڑنے پر قادر ہو سکتے ہیں نہ اور باتوں پر۔پس ناچار اس قدر پلیدی اُن کے نفوس نا قصہ میں رہ جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایک خفیف سا تعلق پیدا کر کے لغویات سے تو کنارہ کش ہو جاتے ہیں لیکن وہ ان کاموں کو چھوڑ نہیں سکتے جن کا چھوڑنا نفس پر بہت بھاری ہے یعنی وہ خدا تعالیٰ کے لئے ان چیزوں کو چھوڑ نہیں سکتے جو نفسانی لذات کے لئے لوازم ضرور یہ ہیں اس بیان سے ظاہر ہے کہ محض لغویات سے منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے جو بہت قابل تحسین ہو بلکہ یہ مومن کی ایک ادنیٰ حالت ہے ہاں خشوع کی حالت سے ایک درجہ ترقی پر ہے۔اور جسمانی وجود کے تیسرے درجہ کے مقابل پر روحانی وجود کا تیسرا درجہ واقع ہوا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جسمانی وجود کا تیسرا مرتبہ یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةٌ یعنی پھر بعد اس کے ہم نے علقہ کو بوٹی بنایا۔یہ وہ مرتبہ ہے جس میں وجود جسمانی انسان کا ناپاکی سے باہر آتا ہے اور پہلے سے اس میں کسی قدر شدت اور صلابت بھی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ نطفہ اور خون جما ہوا جو علقہ ہے وہ دونوں ایک نجاست خفیفہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور اپنے قوام کے رو سے بھی بہ نسبت مضغہ کے نرم اور رقیق ہیں مگر مضغہ جو ایک گوشت کا ٹکڑہ ہوتا ہے پاک حالت اپنے اندر پیدا کرتا ہے اور بہ نسبت نطفہ اور علقہ کے قوام میں بھی ایک حد تک تختی پیدا کر لیتا ہے۔یہی حالت روحانی وجود کے تیسرے درجہ کی ہے اور روحانی