تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 437

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۷ سورة فاطر ہوتی۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کے لئے تیار کئے ہیں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيّرُوا مَا بِأَنْفُهم (الرعد : ۱۲ ) میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے اور دکھ کو سکھ سے تبدیل کر دیتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۲) تزکیہ نفس بجر فضل خدا میسر نہیں آسکتا یہ خدا تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلا اور اس کا قانون جو جاذب فضل کے واسطے ہمیشہ سے مقرر ہے وہ یہی ہے کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۴) جاوے۔وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُوَخِرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا اور اگر خدا ان لوگوں سے ان کے گناہوں کا مؤاخذہ کرتا تو زمین پر ایک بھی زندہ نہ چھوڑتا۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۵۲،۶۵۱) خدا اگر لوگوں کے اعمال پر جو اپنے اختیار سے کرتے ہیں ان کو پکڑتا تو کوئی زمین پر چلنے والا نہ چھوڑتا۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۱)