تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 436
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۶ سورة فاطر يَنْظُرُونَ الاَ سُنَتَ الأَوَّلِينَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تحويلات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کو یہ جواب ملا ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے یوحنا نبی یعنی سیمی کا آنا مراد تھا تو ایک دیندار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ آنا بھی اسی طرز سے ہوگا کیونکہ یہ وہی سنت اللہ ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا - ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۷۹) اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضا و قدر اس طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا جن میں سے ایک بچہ ابراہیم بھی تھا جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ دو قسمیں رکھ دی ہیں اور یہ اس کی سنت ٹھہر چکی ہے اور یہ بھی اس نے فرمایا ہے لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تبدیلا پھر کس قدر غلطی ہے جو انسان اس کے خلاف چاہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۳) سارے نشانات عام لوگوں کے خیالات کے موافق کبھی پورے نہیں ہوا کرتے ہیں تو پھر انبیاء کے وقت اختلاف اور انکار کیوں ہو؟ یہودیوں سے پوچھو کہ کیا وہ مانتے ہیں کہ مسیح کے آنے کے وقت سارے نشانات پورے ہو چکے تھے ؟ نہیں۔یادرکھو! قانونِ قدرت اور سنت اللہ اس معاملہ میں یہی ہے جو میں پیش کرتا ہوں لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلا - الحکم جلدے نمبر۷ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۱) خدا تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلا کرتا جیسے قرآن شریف میں ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا اور جو انسان ذراسی بھی نیکی کرتا ہے تو خدا اسے ضائع نہیں کرتا۔اسی طرح جو ذرہ بھر بدی کرتا ہے اس پر بھی خدا تعالیٰ مؤاخذہ کرتا ہے۔پس جب یہ حالت ہے تو گناہ سے بہت بچنا چاہیے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ /اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۸) خدا تعالیٰ ایک تبدیلی چاہتا ہے اور وہ پاکیزہ تبدیلی ہے جب تک وہ تبدیلی نہ ہو عذاب الہی سے رستگاری اور مخلصی نہیں ملتی۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون اور سنت ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے ہی یہ فیصلہ کر دیا ہے وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ الله تبدیل منت اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں