تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 435
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۵ سورة فاطر درمیان ایک فرقان رکھا جاتا ہے قرآن شریف میں مومن سے وہ مراد نہیں ہے کہ صرف زبان تک ہی اس کی قیل وقال محدود ہو اور صبح وہ ایمان کا کام کرے تو شام کو کفر کا کرے۔ایک لقمہ وہ تریاق کا کھاتا ہے اور دوسرا زہر کا بھی کھا لیتا ہے ایسے شخص کو وہ فرقان اور امتیاز جو مومن کے لئے مقرر کیا گیا ہے نہیں دیا جاتا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۳) ایماندار تین قسم کے ہیں (۱) اول وہ جو ظالم ہیں یعنی انواع و اقسام کے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور گنہ کا پلہ ان کا بھاری ہوتا ہے (۲) دوسرے وہ جو میانہ رو ہیں یعنی کچھ تو گنہ کرتے ہیں اور کچھ نیک اعمال اور دونوں حالتوں میں مساوی ہوتے ہیں (۳) اور تیسرے درجہ کے وہ لوگ ہیں جو عمدہ اخلاق اور عمدہ اعمال میں سبقت لے جاتے ہیں۔۔۔بغرض ایمان لانے والوں کے تین درجے ہیں ظالم ،مقتصد، سابق بالخیرات۔ظالم ہونے کی حالت میں انسان اپنی بداعمالی کی حالت کو محسوس کر لیتا ہے اور مقتصد ہونے کی حالت میں نیکی کے بجالانے کی توفیق پاتا ہے مگر پورے طور پر بجا نہیں لاسکتا اور سابق بالخیرات ہونے کی حالت میں جہاں تک اس کی فطرت کی طاقت ہے پورے طور پر نیکی بجالاتا ہے اور نیک اعمال کے بجالانے میں آگے سے آگے دوڑتا ہے اور اس درجہ پر انسان کو خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور قدرت کا اس قدر علم ہو جاتا ہے کہ گویا وہ اس کو دیکھتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ خود اس کو اپنے خارق عادت تصرفات کے ساتھ راہ دکھا دیتا ہے۔روح القدس کی تائید جو مومن کے شامل حال ہوتی ہے وہ محض خدا تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے جو ان کو ملتا ہے جو سچے دل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں وہ کسی مجاہدہ سے نہیں ملتا محض ایمان سے ملتا ہے اور مفت ملتا ہے صرف یہ شرط ہے کہ ایسا شخص ایمان میں صادق ہو اور قدم استوار اور امتحان کے وقت صابر ہو۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۲۴ تا ۴۲۶) قرآن مجید میں ہے فَمِنهُم ظَالِمُ لِنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِل وَ مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ - ہم تینوں طبقوں کے لوگوں کو مسلمان کہتے ہیں مگر ان کو کیا کہیں جو مومن کو کافر کہیں۔جو ہمیں کافر کہیں گے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہارنہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ کھیں کہ ہم ان مکفرین کو بموجب حدیث صحیح کا فرسمجھتے ہیں۔دوو ( البدر جلد نمبر ۲۰،۱۹ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۲۰) اِسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكَرَ السَّبِي وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّبِي إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ