تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 432
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۲ سورة فاطر آوے تب تک جنگ رہتی ہے اور لوامہ تک یہ جنگ ہے جب یہ ختم ہوئی تو پھر دار النعیم میں آجاتا ہے۔(البدر جلد نمبر ۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۱) ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہ نفس امارہ کے تابع ہیں کہ جس راہ پر نفس نے ڈالا اسی راہ پر چل پڑے سے ہوتے ہیں۔اور وہ صحرا بکھر کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی مثال بہائم کی ہے اس لئے کسی مد میں نہیں آسکتے اور یہ کثرت البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۰) مومنوں کے تین طبقے ہیں ایک وہ جو ٹھو کر کھانے کے لائق ہوتے ہیں۔دوسرے وہ جو میانہ رو کسی ٹھوکر سے بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں۔تیسرے وہ جو ہر ایک ٹھوکر سے ایسے بیچ کر نکل جاتے ہیں جیسے کہ سانپ اپنی کیچلی (سے)۔وہ ہر ایک خیر کے لئے دوڑتے اور ہر ایک شر سے بھاگتے ہیں۔۔۔۔۔قسم اول ظالم لِنَفْسِه - دوئم مُقْتَصِدٌ - سوم سَابِقٌ بِالْخَيْراتِ - الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۳ ، صفحہ ۱۷) سب لوگ ایک طبقہ کے نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ بھی قرآن شریف میں مومنوں کے طبقات بیان کرتا ہے مِنْهُم ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدُ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْراتِ کہ بعض ان میں سے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ رو اور بعض سبقت کرنے والے۔ج البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸ / جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) اسلام میں انسان کے تین طبقے رکھے ہیں۔ظالم لنفسہ۔مقتصد۔سابق بالخیرات۔ظالم لنفسہ تو وہ ہوتے ہیں جو نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں اور ابتدائی درجے پر ہوتے ہیں۔جہاں تک ان سے ممکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ اس حالت سے نجات پائیں۔مقتصد وہ ہوتے ہیں جن کو میانہ رو کہتے ہیں۔ایک درجہ تک وہ نفس امارہ سے نجات پا جاتے ہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ ان پر ہوتا ہے اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔مگر سابق بالخیرات وہ ہوتے ہیں کہ ان سے نیکیاں ہی سرزد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں ان کی حرکات و سکنات طبعی طور پر اس قسم کی ہو جاتی ہیں کہ ان سے افعال حسنہ ہی کا صدور ہوتا ہے گویا ان سے نفس امارہ پر بالکل موت آجاتی ہے اور وہ مطمئنہ حالت میں ہوتے ہیں۔ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں گویا وہ ایک معمولی امر ہے۔اس لئے ان کی نظر میں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد