تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 431
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۱ سورة فاطر کا ملا ہوا ہوتا ہے اور کچھ تاریکی کا۔اس لئے وہ دلائل اور معجزات کے محتاج ہوتے ہیں۔مگر تیسرا طبقہ جو ظالمین کا ہوتا ہے وہ چونکہ بہت ہی نبی اور بلید ہوتے ہیں۔بجز مار کھانے کے وہ نہیں مانتے۔یہ ایک قسم کا جبر ہوتا ہے جو ہر مذہب حق میں پایا جاتا ہے کیونکہ ظالمین بجز اس کے سمجھ نہیں سکتے۔حضرت مسیح کے لئے طیطا ؤس رومی کا اتفاق ہو گیا۔موسیٰ کی قوم جو پہلے ہی سے مزدور یوں اور فرعون کی سختیوں سے نالاں تھی اس نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو قبول کر لینا اپنی نجات کا موجب سمجھا اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کے لئے وقتاً فوقتاً ان پر طاعون ہے۔عذاب بھیجتارہا۔کبھی طاعون کبھی زلزلے۔مختلف طریق پر انہیں منوایا اور اسی طرح ہوتارہا ہے۔غرض یہ ایک سنت اللہ ہے کہ ظالمین کو اللہ تعالیٰ اس طریق پر سمجھاتا ہے کیوں؟ یہ فرقہ زیادہ بھی ہوتا ہے اور نبی بھی۔اس وقت بھی یہ فرقہ زیادہ ہے۔جو نشانات خدا نے ظاہر کئے ان پر بھی بھی جرح کرتے ہیں۔کسوف خسوف کی حدیث کو مجروح قرار دے دیا لیکھرام کی پیشگوئی پر اعتراض کر دیا۔ہر نشان جو ظاہر ہوتا ہے اعتراض کر دیتے ہیں مگر خدا تو سب کا مرشد ہے اس لئے تیسری صورت اور آخری حجت اختیار کی ہے جو الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۶) مومن کی جو تقسیم قرآن شریف میں کی گئی ہے اس کے تین ہی درجے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ظالم ،مقتصد، سابق بالخیرات۔یہ ان کے مدارج ہیں ورنہ اسلام کے اندر یہ داخل ہیں۔ظالم وہ ہوتا ہے کہ ابھی اس میں بہت غلطیاں اور کمزوریاں ہیں اور مقتصد وہ ہوتا ہے کہ نفس اور شیطان سے اس کی جنگ ہوتی ہے مگر کبھی یہ غالب آجاتا ہے اور کبھی مغلوب ہوتا ہے۔کچھ غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور صلاحیت بھی۔اور سابق بالخیرات وہ ہوتا ہے جو ان دونوں درجوں سے نکل کر مستقل طور پر نیکیاں کرنے میں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہی ہو۔نفس اور شیطان کو مغلوب کر چکا ہو۔قرآن شریف ان سب کو مسلمان ہی کہتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ارنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) مقتصد سے مراد نفس لوامہ والے ہیں اور یہ تکالیف نفس لوامہ تک ہوتی ہیں کہ اس میں انسان کے ساتھ کشاکش نفس امارہ کی ہوتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ راحت اور آرام کی یہ بات اختیار کر اور لوامہ وہ نہیں کرتا اس وقت انسان مجاہدہ کرتا ہے اور نفس امارہ کو زیر کرتا ہے اور اسی طرح جنگ ہوتی رہتی ہے حتی کہ امارہ شکست کھا جاتا ہے اور پھر نفس مطمونہ رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اس آیت میں ظالم سے مراد نفس امارہ والے اور مقتصد سے مراد لوامہ والے اور سابق بالخیرات سے مراد مطمئنہ والے ہیں۔پوری تبدیلی زندگی میں جب تک نہ