تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 430

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ سورة فاطر دوسری حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے اس دنیا میں بہشت دوزخ کی صورت میں متمثل ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف شاقہ جہنم کی صورت میں اس کو نظر آتی ہیں پس وہ بطیب خاطر اس جہنم میں وارد ہو جاتا ہے تو معا اپنے تئیں بہشت میں پاتا ہے۔اسی طرح اور بھی احادیث نبویہ بکثرت موجود ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ مومن اسی دنیا میں نار جہنم کا حصہ لے لیتا ہے اور کا فرجہنم میں بجبر واکراہ گرایا جاتا ہے لیکن مومن خدا تعالیٰ کے لئے آپ آگ میں گرتا ہے۔ایک اور حدیث اسی مضمون کی ہے جس میں لکھا ہے کہ ایک حصہ نار کا ہر یک بشر کے لئے مقدر ہے چاہے تو وہ اس دنیا میں اس آگ کو اپنے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں قبول کر لیوے اور چاہے تو تنعم اور غفلت میں عمر گزارے اور آخرت میں اپنے تنعم کا حساب دیوے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۲۸ تا ۱۴۶) چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک از لی کا فر جو بے قیدی اور اباحت کی زندگی کو چاہتے ہیں اور تین قسم کے مومن۔ظالم لنفسہ۔مقتصد۔سابق بالخیرات۔پہلی قسم کے مومن وہ ہیں جو ظالم ہیں یعنی ان پر کچھ کچھ جذباتِ نفس غالب آ جاتے ہیں ، دوسرے میانہ رو، اور تیسرے خیر مجسم۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۷ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) جب انبیاء علیہم السلام مامور ہو کر دنیا میں آتے ہیں تو لوگ تین ذریعوں سے ہدایت پاتے ہیں یہ اس لئے کہ تین ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ؛ ظالم ،مقتصد اور سابق الخیرات۔اول درجے کے لوگ تو سابق بالخیرات ہوتے ہیں جن کو دلائل اور معجزات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔وہ ایسے صاف دل اور سعید ہوتے ہیں کہ مامور کے چہرہ ہی کو دیکھ کر اس کی صداقت کے قائل ہو جاتے ہیں اور اس کے دعوی کو ہی سن کر اس کو برتنگ دلیل سمجھ لیتے ہیں ان کی عقل ایسی لطیف واقع ہوئی ہوتی ہے کہ وہ انبیاء کی ظاہری صورت اور ان کی باتوں کو سن کر قبول کر لیتے ہیں۔دوسرے درجہ کے لوگ مقتصد بن کہلاتے ہیں جو ہوتے تو سعید ہیں مگر ان کو دلائل کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ شہادت سے مانتے ہیں۔تیسرے درجہ کے لوگ جو ظالمین ہیں ان کی طبیعت اور فطرت کچھ ایسی وضع پر واقع ہوتی ہے کہ وہ بجز مار کھانے اور سختی کے مانتے ہی نہیں۔احکم جلد ۶ نمبر ۱۱ مور محه ۲۴ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۶) دنیا میں ہمیشہ انسانوں کے تین طبقے ہوتے ہیں۔سابق بالخیرات مقتصد اور ظالم۔سابقین کو نشانات اور معجزات کی ضرورت نہیں ہوتی وہ تو قرائن اور حالات موجودہ سے پہچان لیتے ہیں۔مقتصد ین کو کچھ حصہ روشن دماغی