تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 429

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ سورة فاطر ہے بلکہ محمود اور ترقیات غیر متناہیہ کا مرکب اور مجاہدات شاقہ کا ذریعہ ہے اور در حقیقت یہی صفت مخالفت نفس کی جو دوسرے لفظوں میں ظلومیت کے اسم سے بھی موسوم ہے ایک نہایت قابل تعریف جو ہر انسان میں ہے جو فرشتوں کو بھی نہیں دیا گیا اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب : ۷۳)۔یعنی انسان میں ظلومیت اور جہولیت کی صفت تھی اس لئے اس نے اس امانت کو اٹھا لیا۔جس کو وہی شخص اٹھا سکتا ہے جس میں اپنے نفس کی مخالفت اور اپنے نفس پر سختی کرنے کی صفت ہو۔غرض یہ صفت ظلومیت انسان کے مراتب سلوک کا ایک مرکب اور اس کے مقامات قرب کے لئے ایک عظیم الشان ذریعہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو بوجہ مجاہدات شاقہ کے اوائل حال میں نار جہنم کی شکل پر تجلی کرتا ہے لیکن آخر نعماء جنت تک پہنچا دیتا ہے اور در حقیقت قرآن کریم کے دوسرے مقام میں جو یہ آیت ہے وَ إِنْ مِنكُمْ إلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْماً مَقْضِيّا ثُمَّ نُنَجِي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (مريم : ٧٣ ) - یہ بھی در حقیقت صفت محمود کو ظلومیت کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے اور ترجمہ آیت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نفس نہیں جو آگ میں وارد نہ ہو یہ وہ وعدہ ہے جو تیرے رب نے اپنے پر امر لازم اور واجب الا دا ٹھہرا رکھا ہے پھر ہم اس آگ میں وارد ہونے کے بعد متقیوں کو نجات دے دیتے ہیں اور ظالموں کو یعنی ان کو جو مشرک اور سرکش ہیں جہنم میں زانو پر گرے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں۔اس جگہ الظالمین پر جو الف لام آیا ہے۔وہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اور اس سے غرض یہ ہے کہ ظالم دو قسم کے ہیں۔(۱) ایک متقی ظالم جن کی نجات کا وعدہ ہے اور جو خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔اور جو آیت فینهُمُ ظالِمُ میں ناجیوں میں شمار کئے گئے ہیں۔(۲) دوسرے مشرک اور کافر اور سرکش ظالم جو جہنم میں گرائے جائیں گے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ متقی بھی اس نار کی مس سے خالی نہیں ہیں۔اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اسی دنیا میں جو دار الا بتلا ہے انواع اقسام کے پیرا یہ میں بڑی مردانگی سے اس نار میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء و قدر بھی نار کی شکل میں ان پر وارد ہوتے ہیں وہ ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پر آتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کر سکتا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آپ بھی جو مومن کو آتا ہے وہ نار جہنم میں سے ہے اور مومن بوجہ تپ اور دوسری تکالیف کے نار کا حصہ اسی عالم میں لے لیتا ہے اور ایک