تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 428
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۸ سورة فاطر استعمال نہیں کیا بلکہ ان کو مردود اور مخذول اور مورد غضب ٹھہرایا ہے مگر اس جگہ ظالم کو اپنا برگزیدہ قرار دیا اور مورد فضل ٹھہرایا ہے اور اس آیت سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ جیسے مقتصد اس لئے برگزیدہ ہے کہ مقتصد ہے اور سابق بالخیرات اس لئے برگزیدہ ہے کہ وہ سابق بالخیرات ہے۔اسی طرح ظالم بھی اس لئے برگزیدہ ہے کہ وہ ظالم ہے۔پس کیا اب اس ثبوت میں کچھ کسر رہ گئی کہ اس جگہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو خدا تعالیٰ کو پیارا معلوم ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر اکراہ اور جبر کرنا اور نفس کے جذبات کو اللہ جلشانہ کے راضی کرنے کی غرض سے کم کر دینا اور گھٹا دینا اور اس قسم کے ظالموں کا قرآن کریم کے دوسرے مقامات میں تو ابین بھی نام ہے جن سے اللہ جلشانہ پیار کرتا ہے۔غرض ایسا خیال کرنا نعوذ باللہ سخت دھوکا ہے کہ ان ظالموں سے جو اس آیت میں درج ہیں وہ ظالم مراد لئے جائیں جو خدا تعالیٰ کے سخت نا فرمان ہیں اور شرک اور کفر اور فسق کو اختیار کرنے والے اور اس پر راضی ہو جانے والے اور ہدایت کی راہوں سے بغض رکھنے والے ہیں بلکہ وہ ظالم مراد ہیں جو باوجود نفس کے سخت جذبات کے پھر افتاں خیزاں خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتے ہیں۔اس پر ایک اور قرینہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کے نزول کی علت غائی ھدی لِلْمُتَّقِينَ قرار دی ہے اور قرآن کریم سے رشد اور ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے بالتخصیص متقیوں کو ہی ٹھہرایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۳)۔پس اس علت غائی پر نظر ڈال کر یقینی اور قطعی طور پر یہ بات فیصلہ پا جاتی ہے کہ ظالم کا لفظ اس آیت میں ایسے شخص کی نسبت ہر گز اطلاق نہیں پایا کہ جو عمد ا نا فرمان اور سرکش اور طریق عدل کو چھوڑنے والا اور شرک اور بے ایمانی کو اختیار کرنے والا ہو۔کیونکہ ایسا آدمی تو بلاشبہ دائرہ انتقا سے خارج ہے اور اس لائق ہر گز نہیں ہے کہ ادنی سے ادنی قسم متقیوں میں اس کو داخل کیا جائے مگر آیت مدوحہ میں ظالم کو متقیوں اور مومنوں کے گروہ میں نہ صرف داخل ہی کیا ہے بلکہ متقیوں کا سردار اور ان میں سے برگزیدہ ٹھہرا دیا ہے۔پس اس سے جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں ثابت ہوا کہ یہ ظالم ان ظالموں میں سے نہیں ہیں جو دائر و انقا سے بکلی خارج ہیں بلکہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جو ظلمت معصیت میں مبتلا تو ہیں مگر با ایں ہمہ خدا تعالیٰ سے سرکش نہیں ہیں بلکہ اپنے سرکش نفس سے کشتی کرتے رہتے ہیں اور تکلف اور تصنع سے اور جس طرح بن پڑے حتی الوسع نفس کے جذبات سے رکنا چاہتے ہیں مگر کبھی نفس غالب ہو جاتا ہے اور معصیت میں ڈال دیتا ہے اور کبھی وہ غالب آ جاتے ہیں اور رورو کر اس سیہ دھبے کو دھو ڈالتے ہیں اور یہ صفت جو ان میں موجود ہوتی ہے دراصل مذموم نہیں۔