تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 427
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ سورة فاطر مرضی ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے حکموں اور مشیتیوں سے ایسا پیار کرتے ہیں کہ جیسا خدا تعالٰی ان امور سے پیار کرتا ہے اسی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کے امتحانوں کے وقت پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ چند قدم آگے رکھ دیتے ہیں۔پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ ان تینوں گروہوں پر میرا بڑا فضل ہے یعنی ظالم بھی مورد فضل اور برگزیدہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اور ایسا ہی مقتصد بھی اور سابق بالخیرات تو خود ظاہر ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے ظالموں کو بھی اپنے برگزیدہ بندے اور مورد فضل قرار دے دیا ہے اور ان کو اپنے ان پیارے اور چنے ہوئے اور قابل تحسین لوگوں میں شمار کر لیا ہے جن سے وہ بہت ہی خوش ہے حالانکہ قرآن کریم اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ جل شانہ ظالموں سے پیار نہیں کرتا اور عدل کو چھوڑنے والے کبھی مورد فضل نہیں ہو سکتے۔پس اس دلیل سے بہ بداہت معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں ظالموں کے گروہ سے مراد وہ گروہ نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کا سرکش اور نافرمان اور مشرک اور کافر اور طریق عدل اور راستی کو چھوڑنے والا اور خدا تعالیٰ کی مخالفت کو اختیار کرنے والا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کو تو قرآن کریم مردود اور مور د غضب ٹھہراتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ظالموں اور معتدین کو جو طریق عدل اور انصاف چھوڑ دیتے ہیں دوست نہیں رکھتا پھر وہ لوگ مورد فضل کیوں کر ٹھہر سکتے ہیں اور کیوں کر ان کا نام مصطفی اور برگزیدہ اور چنا ہوا رکھا جا سکتا ہے۔سوان یقینی اور قطعی دلائل سے نہیں ماننا پڑا کہ اس جگہ ظالم کا لفظ کسی مذموم معنی کے لئے استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے محمود اور قابل تعریف معنوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو درجہ سابق بالخیرات سے حصہ لینے کے مستحق اور اس درجہ فاضلہ کے چھوٹے بھائی ہیں اور وہ معنے بجز اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ ظالم سے مراد اس قسم کے لوگ رکھے جائیں کہ جو خدا تعالی کے لئے اپنے نفس مخالف پر جبر اور اکراہ کرتے ہیں اور نفس کے جذبات کم کرنے کے لئے دن رات مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں کیونکہ یہ تو لغت کی رو سے بھی ثابت ہے کہ ظالم کا لفظ بغیر کسی اور لحاظ کے فقط کم کرنے کے لئے بھی آیا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا أَى وَلَمْ تَنْقُصْ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلا شبہ ان معنوں کی رو سے ایک ظلم ہے ماسوا اس کے ہم ان کتب لغت کو جو صد ہا برس قرآن کریم کے بعد اپنے زمانہ کے محاورات کے موافق طیار ہوئی ہیں قرآن مجید کا حکم نہیں ٹھہرا سکتے۔قرآن کریم اپنی لغات کے لئے آپ متکفل ہے اور اس کی بعض آیات بعض دوسری آیات کی شرح کرتی ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ اصطفاء کا عزت بخش لفظ کبھی دوسرے ظالموں کے حق میں خدا تعالیٰ نے