تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 426
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ سورة فاطر استعدادوں کی اصلاح اور تکمیل اور تربیت کر سکے اور اسلام کی پوری شکل اور پوری عظمت بنی آدم پر ظاہر ہو اور اس کے ظہور کا وقت بھی آپہنچا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کو تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے جو قیامت تک آنے والے تھے ایک کامل اور جامع قانون کی طرح نازل فرمایا اور ہر ایک درجہ کی استعداد کے لئے افادہ اور افاضہ کا دروازہ کھول دیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ ج عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الكَبِيرُ۔یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو وارث کیا جو ہمارے بندوں میں سے برگزیدہ ہیں اور وہ تین گروہ ہیں (۱) ایک اُن میں سے ظالموں کا گروہ جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں یعنی اکراہ اور جبر سے نفس اتارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔(۲) دوسری میانہ حالت آدمیوں کا گروہ جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے باکراہ اور جبر لیتے ہیں اور بعض للہی کاموں کی بجا آوری میں نفس ان کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجالاتا ہے غرض وہ لوگ کچھ تو تکلف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی فرمانبرداری ان سے صادر ہوتی ہے یعنی ابھی یوری موافقت اللہ جلشانہ کے ارادوں اور خواہشوں سے ان کو حاصل نہیں اور نہ نفس کی جنگ اور مخالفت سے بکی فراغت بلکہ بعض سلوک کی راہوں میں نفس موافق اور بعض راہوں میں مخالف ہے۔(۳) تیسری سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ کے آدمیوں کا گروہ ہے یعنی وہ گروہ جو نفس اتارہ پر بنگلی فتحیاب ہو کر نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں جن کے نفوس کی سرکشی اور امارگی بگی دور ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ کے احکام سے اور اس کی شریعت کی تمام راہوں سے اور اس کی تمام قضا و قدر سے اور اس کی تمام مرضی اور مشیت کی باتوں سے وہ طبعاً پیار کرتے ہیں نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے اور کوئی دقیقہ اطاعت اور فرمانبرداری کا اٹھا نہیں رکھتے اور اللہ جل شانہ کی فرمانبرداری ان کی طبیعت کی جزو اور ان کی جان کی راحت ہو جاتی ہے کہ بغیر اس کے وہ جی ہی نہیں سکتے اور ان کا نفس کمال ذوق اور شوق اور لذت اور شدت میلان اور خوشی سے بھرے ہوئے انشراح کے ساتھ خدا تعالیٰ کی اطاعت بجالاتا ہے اور اس بات کی طرف وہ کسی وقت اور کسی محل اور کسی حکم الہی یا مشیت الہی کی نسبت محتاج نہیں ہوتے کہ اپنے نفس سے با کراہ اور جبر کام لیں بلکہ اُن کا نفس نفس مطمئنہ ہو جاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کا ارادہ وہ ان کا ارادہ اور جو اس کی مرضی وہ ان کی