تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 425

۴۲۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة فاطر العلموا یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم خشیت اللہ کو پیدا کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ نے علم کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے کہ جو شخص پورے طور پر عالم ہوگا اس میں ضرور خشیت اللہ پیدا ہوگی۔علم سے مراد میری دانست میں علم القرآن ہے اس سے فلسفہ، سائنس یا اور علوم مروجہ مراد نہیں کیونکہ ان کے حصول کے لئے تقویٰ اور نیکی کی شرط نہیں بلکہ جیسے ایک فاسق فاجر ان کو سیکھ سکتا ہے ویسے ہی ایک دیندار بھی۔لیکن علم القرآن بحر متقی اور دیندار کے کسی دوسرے کو دیا ہی نہیں جاتا۔پس اس جگہ علم سے مراد علم القرآن ہی ہے جس سے تقویٰ اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) ج ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَتِ بِإِذْنِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ بعض مسلمانوں میں سے ایسے ہیں جن پر نفسانی جذبات غالب ہیں اور بعض درمیانی حالت کے ہیں اور بعض وہ ہیں کہ انتہاء کمالات ایمانیہ تک پہنچ گئے ہیں پھر اگر اللہ تعالیٰ نے برعایت اس طبقہ مسلمانوں کے جو ضعیف اور بزدل اور ناقص الایمان ہیں یہ فرما دیا کہ کسی جان کے خطرہ کی حالت میں اگر وہ دل میں اپنے ایمان پر قائم رہیں اور زبان سے گو اس ایمان کا اقرار نہ کریں تو ایسے آدمی معذور سمجھے جاویں گے مگر ساتھ اس کے یہ بھی تو فرما دیا کہ وہ ایماندار بھی ہیں کہ بہادری سے دین کی راہ میں اپنی جانیں دیتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۶) بنی آدم کی فطرتیں مختلف ہیں۔بعض لوگ ظالم ہیں جن کے نور فطرتی کو قومی بہیمیہ یا غضبیہ نے دبایا ہوا ہے بعض درمیانی حالت میں ہیں بعض نیکی اور رجوع الی اللہ میں سبقت لے گئے ہیں۔(برائین احمد یه چهار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۵ حاشیہ نمبر ۱۱) ایک وہ گروہ ہے جن پر شیطانی ظلمت غالب ہے اور روح القدس کی چمک کم ہے اور دوسری وہ گروہ ہے جو روح القدس کی چمک اور شیطانی ظلمت ان میں مساوی ہیں اور تیسری وہ گروہ ہے جن پر روح القدس کی چمک غالب آگئی ہے اور خیر محض ہو گئی ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۷ ) قرآن کریم کے اتارنے سے اللہ جلشانہ کا یہ مقصد تھا کہ وہ تمام بنی آدم اور تمام زمانوں اور تمام