تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 419

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پاک کلمے اس کی طرف چڑھتے ہیں۔۴۱۹ سورة فاطر اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۶۸) میں اپنی جماعت کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ ضرورت ہے اعمال صالحہ کی۔خدا تعالیٰ کے حضور اگر کوئی چیز جاسکتی ہے تو وہ یہی اعمال صالحہ ہیں إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ - احکام جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۱ صفحہ ۳،۲) وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَ إِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِبْلِهَا لَا يُحْمَلُ مِنْهُ شَيْءٍ وَ لَوْ كَانَ ذَا قُربى - إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَونَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَمَنْ تَزَلَى فَإِنَّمَا يَتَزَى لِنَفْسِهِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ حدیث ہے جو بخاری کے صفحہ ۱۷۲ میں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخم کاری سے مجروح ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے ان کے پاس گئے کہ ہائے میرے بھائی۔ہائے میرے دوست۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اے صہیب مجھ پر تو روتا ہے کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت پر اس کے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے۔پھر جب حضرت عمر وفات پاگئے تو ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے یہ سب حال حدیث پیش کرنے کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ خدا عمر" پر رحم کرے بخدا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بیان نہیں فرمایا کہ مومن پر اس کے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے اور فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن کافی ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى - یعنی حضرت عائشہ صدیقہ نے باوجود محدود علم کے فقط اس لئے قسم کھائی کہ اگر اس حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں کہ خواہ نخواہ ہر ایک میت اس کے اہل کے رونے سے معذب ہوتی ہے تو یہ حدیث قرآن کے مخالف اور معارض ٹھہرے گی۔اور جو حدیث قرآن کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۹ حاشیه ) صحیح بخاری کی کتاب الجنائز صفحہ ۱۷۲ میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حدیث إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبَعْضٍ بُكَاءِ أَهْلِهِ کو قرآن کریم کی اس آیت سے کہ لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى معارض و مخالف پا کر حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ یہ مومنوں کے متعلق نہیں بلکہ کفار کے متعلق ہے جو متعلقین کے جزع فزع پر راضی تھے بلکہ وصیت کر جاتے تھے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۹)