تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 418
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۸ سورة فاطر وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَ الَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ، وَ مَكْرُ أوليك هُوَ يَبُورُ۔اسی رحمن کی طرف کلمات طیبہ صعود کرتے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۱ حاشیه در حاشیه ) ہمارا بھی تو یہی مذہب ہے کہ مقدس لوگوں کو موت کے بعد ایک نورانی جسم ملتا ہے اور وہی نور جو وہ ساتھ رکھتے ہیں جسم کی طرح اُن کے لئے ہو جاتا ہے سو وہ اس کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه یعنی پاک روحیں جو نورانی الوجود ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف صعود کرتی ہیں اور عمل صالح اُن کا رفع کرتا ہے یعنی جس قدر عمل صالح ہو اُسی قدر روح کا رفع ہوتا ہے۔اس جگہ خدائے تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ درحقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لاید رک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں۔اسی بناء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مريم (النساء : ۱۷۲)۔اور چونکہ یہ سمر ربوبیت ہے اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور قو تیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیبہ فنافی اللہ ہونے کی حالت میں اپنے تمام قومی چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الہی میں فانی ہو جاتی ہیں تو گویا پھر وہ روح کی حالت سے باہر آ کر کلمتہ اللہ ہی بن جاتی ہیں جیسا کہ ابتدا میں وہ کلمتہ اللہ تھے۔سو کلمتہ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا اُن کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے سو انہیں نور کا لباس ملتا ہے اور اعمال صالحہ کی طاقت سے اُن کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔اور ہمارے ظاہر بین علما اپنے محدود خیالات کی وجہ سے کلمات طیبہ سے مراد محض عقائد یا اذ کارواشغال رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ سے مراد بھی اذکار وخیرات وغیرہ ہیں۔تو گویا وہ اس تاویل سے علت اور معلول کو ایک کر دیتے ہیں۔اگر چہ کلمات طیبہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں لیکن عارفوں کے لئے یہ بطنی معنے ہیں جن پر قرآن کریم کے دقیق اشارات مشتمل ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۳ تا ۳۴۳)