تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 417
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۴۱۷ سورة فاطر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة فاطر بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ افَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَاهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ فَلَا تَذْهَبُ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ) کیا ان لوگوں کے لئے جو حق کو قبول نہیں کرتے تو حسرتیں کھا کھا کر اپنی جان دے گا۔سو قوم کی راہ میں جان دینے کا حکیمانہ طریق یہی ہے کہ قوم کی بھلائی کے لئے قانونِ قدرت کی مفید راہوں کے موافق اپنی جان پر سختی اُٹھاویں اور مناسب تدبیروں کے بجالانے سے اپنی جان ان پر فدا کر دیں نہ یہ کہ قوم کو سخت بلا یا گمراہی میں دیکھ کر اور خطرناک حالت میں پا کر اپنے سر پر پتھر مار لیں یا دوتین رتی اسٹرکنیا کھا کر اس جہاں سے رخصت ہو جائیں اور پھر گمان کریں کہ ہم نے اپنی اس حرکت بیجا سے قوم کو نجات دے دی ہے یہ مردوں کا کام نہیں ہے زنانہ خصلتیں ہیں اور بے حوصلہ لوگوں کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے کہ مصیبت کو قابل برداشت نہ پا کر جھٹ پٹ خود کشی کی طرف دوڑتے ہیں۔ایسی خود کشی کی کو بعد میں کتنی ہی تاویلیں کی جائیں مگر یہ حرکت بلاشبہ عقل اور عقلمندوں کا ننگ۔اور ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۹) مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ