تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 13
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة المؤمنون ہے لیے گویا لغو باتوں سے دل کو چھڑانا خدا سے دل کو لگا لینا ہے کیونکہ انسان تعبّد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور طبعی طور پر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجود ہے پس اسی وجہ سے انسان کی روح کو خدا تعالیٰ سے ایک تعلق از لی ہے۔ جیسا کہ آیت اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی (الاعراف : ۱۷۳) سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ تعلق جو انسان کو رحیمیت کے پرتوہ کے نیچے آکر یعنی عبادات کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے حاصل ہوتا ہے جس تعلق کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ خدا پر ایمان لاکر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے ۔ وہ اُسی از لی تعلق کو مکمن قوت سے حیر فعل میں لانا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نماز اور یاد الہی میں حالت خشوع اور رقت اور سوز و گداز ہے یہ مرتبہ اپنی ذات میں صرف اطلاق کی حیثیت رکھتا ہے یعنی نفس خشوع کے لئے یہ لازمی امر نہیں ہے کہ ترک لغویات بھی ساتھ ہی ہو یا اس سے بڑھ کر کوئی اخلاق فاضلہ اور عادات مہذبہ ساتھ ہوں بلکہ ممکن ہے کہ جو شخص نماز میں خشوع اور رقت و سوز اور گریہ وزاری اختیار کرتا ہے خواہ اس قدر کہ دوسرے پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے ہنوز لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو تعلقوں اور لغو نفسانی جوشوں سے اس کا دل پاک نہ ہو یعنی ممکن ہے کہ ہنوز معاصی سے اس کو رستگاری نہ ہو کیونکہ خشوع کی حالت کا کبھی کبھی دل پر وارد ہونا یا نماز میں ذوق اور سرور حاصل ہونا یہ اور چیز ہے اور طہارت نفس اور چیز ۔ اور گوکسی سالک کا خشوع اور عجز و نیاز اور سوز و گداز بدعت اور شرک کی آمیزش سے پاک بھی ہوتا ہم ایسا آدمی جس کا وجود روحانی ابھی مرتبہ دوم تک نہیں پہنچا ابھی صرف قبلہ روحانی کا قصد کر رہا ہے اور راہ میں سرگردان ہے اور ہنوز اُس کی راہ میں طرح طرح کے دشت و بیابان اور خارستان اور کوہستان اور بحر عظیم پر طوفان اور ے لغو تعلقات سے الگ ہونا خدا تعالیٰ کے تعلق کا اس لئے موجب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں آیات میں افتح کے لفظ کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کی طلب میں کوئی کام کرے گا وہ بقدر محنت کشی اور بقدرا اپنی سعی کے خدا کو پائے گا۔ اور اس سے تعلق پیدا کرلے گا۔ پس جو شخص خدا کا تعلق حاصل کرنے کے لئے لغو کام چھوڑتا ہے اس کو اس وعدہ کے موافق جو لفظ افلح میں ہے ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو اس نے کام کیا ہے وہ بھی بڑا بھاری کام نہیں صرف ایک خفیف تعلق کو جو اس کو لغویات سے تھا چھوڑ دیا ہے اور یادر ہے کہ جیسا کہ لفظ افلح اول آیت میں موجود ہے یعنی اس آیت میں کہ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُون یہی لفظ عطف کے طور پر تمام آئندہ آیتوں سے وعدہ کے طور پر متعلق ہے۔ پس یہ آیت کہ وَ الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یہی معنی رکھتی ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ اور افلاح یعنی افلح کا لفظ ہر ایک مرتبہ ایمان پر ایک خاص معنی رکھتا ہے اور ایک خاص تعلق کا وعدہ دیتا ہے۔ منہ