تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 415
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ سورة سبا لاثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قدر اثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمت شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار کرتے کرتے آخر دو و و اس قدر انہیں بھی کہنا پڑا کہ اِنْ هَذَا إِلَّا سِحر تبين - برائن احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۳، ۲۱۴ حاشیہ نمبر ۱۱) قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِى الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ۵۰ عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع اور محال ہے اور مسلمانوں کا پھر شرک اختیار کرنا اس جہت سے ممتنعات میں سے ہے کہ خدا تعالیٰ نے و اس بارے میں بھی پیشینگوئی کر کے آپ فرما دیا ہے مَا يُبْدِی الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ یعنی شرک اور مخلوق پرستی جس قدر دور ہو چکی ہے پھر وہ نہ اپنی کوئی نئی شاخ نکالے گی اور نہ اسی پہلی حالت پر عود کرے گی۔سو اس پیشین گوئی کی صداقت بھی اظہر من الشمس ہے کیونکہ باجود منقصی ہونے زمانہ دراز کے اب تک ان قوموں اور ان ملکوں میں کہ جن سے مخلوق پرستی معدوم کی گئی تھی پھر شرک اور بت پرستی نے توحید کی جگہ نہیں لی اور آئندہ بھی عقل اس پیشین گوئی کی سچائی پر کامل یقین رکھتی ہے کیونکہ جب اوائل ایام میں کہ مسلمانوں کی تعداد بھی قلیل تھی تعلیم توحید میں کچھ تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ روز بروز ترقی ہوتی گئی تو اب کہ جماعت اس موحد قوم کی ہیں کروڑ سے بھی کچھ زیادہ ہے کیوں کر تزلزل ممکن ہے۔علاوہ اس کے زمانہ بھی وہ آگیا ہے کہ مشرکین کی طبیعتیں یہ باعث متواتر استماع تعلیم فرقانی اور دائمی صحبت اہل توحید کے کچھ کچھ تو حید کی طرف میل کرتی جاتی ہیں۔جدھر دیکھو دلائل وحدانیت کے بہادر سپاہیوں کی طرح شرک کے خیالی اور وہمی برجوں پر گولہ اندازی کر رہے ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مشرکوں کے دلوں پر ایک ہلچل ڈال رکھی ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودا ہونا عالی خیال لوگوں پر ظاہر ہوتا جاتا ہے اور وحدانیت الہی کی پرزور بندوقیں شرک کے بدنما جھونپڑوں کو اڑاتی جاتی ہیں۔پس ان تمام آثار سے ظاہر ہے کہ اب اندھیرا شرک کا ان اگلے دنوں کی طرح پھیلنا کہ جب تمام دنیا نے مصنوع چیزوں کی ٹانگ صانع کی ذات اور صفات میں پھنسا رکھی تھی ممتنع اور محال ہے اور جب کہ فرقان مجید کے اصول حقہ کا محرف اور مبدل ہو جانا یا پھر ساتھ اس کے تمام خلقت پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا عند العقل محال اور ممتنع ہوا تو نئی شریعت اور نئے الہام کے نازل