تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 413

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۳ سورة سبا اور معارف ہیں۔اسلام راستی کا عصا تھا جو اپنے سہارے کھڑا تھا اور اس کے سامنے کوئی آریہ، ہندو، عیسائی دم نہ مار سکتا تھا لیکن جب سے یہ دابتہ الارض پیدا ہوئے اور انہوں نے قرآن کو چھوڑ کر موضوع روایتوں پر اپنا انحصار رکھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہونے شروع ہو گئے۔دابتہ الارض کے معنے اصل میں یہ ہیں کہ ایک دیمک ہوتی ہے جس میں کوئی خیر نہیں جو لکڑی اور مٹی وغیرہ کو کھا جاتی ہے۔اس میں فنا کا مادہ ہے اور اچھی چیز کو فنا کرنا چاہتی ہے اس میں آتشی مادہ ہے۔اب اس کا مطلب یہ ہے کہ دابتہ الارض اس وقت کے علماء ہیں جو جھوٹے معنے کرتے ہیں اور اسلام پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔۔۔۔غرض عصائے اسلام جس کے ساتھ اسلام کی شوکت اور رعب تھا اور جس کے ساتھ امن اور سلامتی تھی اس دابتہ الارض نے گرادیا ہے۔پس جیسے وہ دابتہ الارض تھا یہ اس سے بدتر ہیں۔اس سے تو صرف ملک میں فتنہ پڑا تھا مگران سے دین میں فساد پیدا ہوا اور ایک لاکھ سے زائد لوگ مرتد ہو گئے۔۔۔۔۔یہ بات بہت درست ہے کہ اسلام اپنی ذات میں کامل ، بے عیب اور پاک مذہب ہے لیکن نادان دوست اچھا نہیں ہوتا اس دابتہ الارض نے اسلام کو نادان دوست بن کر جو صدمہ اور نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی بہت ہی مشکل ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۵) یہ مسلمان دابتہ الارض ہیں اور اس لئے اس کے مخالف ہیں جو آسمان سے آتا ہے۔جوز مینی بات کرتا ہے وہ دابتہ الارض ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسا ہی فرمایا تھا۔روحانی امور کو وہی دریافت کرتے ہیں جن میں مناسبت ہو چونکہ ان میں مناسبت نہ تھی اس لئے انہوں نے عصائے دین کو کھا لیا جیسے سلیمان کے عصا کو کھا لیا تھا۔اور اس سے آگے قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جب جنوں کو یہ پتہ لگا تو انہوں نے سرکشی اختیار کی۔اسی طرح پر عیسائی قوم نے جب اسلام کی یہ حالت دیکھی یعنی اس دابتہ الارض نے اس عصاء راستی کو کمزور کر دیا تو ان قوموں کو اس پر وار کرنے کا موقع دے دیا۔جن وہ ہے جو چھپ کر وار کرے اور پیار کے رنگ میں دشمنی کرتے ہیں وہی پیار جو حوا سے آکر نحاش نے کیا تھا۔اس پیار کا انجام وہی ہونا چاہیے جو ابتداء میں ہوا۔آدم پر اسی سے مصیبت آئی۔اس وقت گویا وہ خدا سے بڑھ کر خیر خواہ ہو گیا۔اسی طرح پر یہ بھی وہی حیات ابدی پیش کرتے ہیں جو شیطان نے کی تھی اس لئے قرآن شریف نے اول اور آخر کو اسی پر ختم کیا۔اس میں سر یہ تھا کہ تابتا یا جاوے کہ ایک آدم آخر میں بھی آنے والا ہے۔(الکام جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۷ ار جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶) دَابَةُ الْأَرْضِ تَأكُلُ مِنْسَأَتَه قرآن شریف سے یہ بھی ثابت ہے کہ جب تک انسان میں روحانیت پیدا