تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 406

۴۰۶ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشہور اور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ یا یا اور ہدایت دی۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ پایا علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقادر کھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کا فربے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہیے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا آکھ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَأوَى وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَابِلًا فَاغْنى (الضُّحى : ۹۰۸۰۷)۔یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال (یعنی عاشق وجہ اللہ ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پا یا پس غنی کر دیا۔ان معنوں کی صحت پر یہ ذیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو ان کے بعد آتی ہیں یعنی یہ که فَلَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ وَ أَمَا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ (الضُّحى : ۱۱،۱۰، ۱۲) کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مدعا مخفی ہے دوسری آیتیں اس کی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلاً پہلے فرما یا الم يَجِدُكَ يَتِيماً فَاوی اس کے مقابل پر یہ فرمایا فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ یعنی یاد کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔پھر بعد اس آیت کے فرمایا وَوَجَدَكَ ضَالاً فَهَدی اس کے مقابل پر یہ فرمایا وَ أَما السَّابِلَ فَلَا تَنْهرُ یعنی یاد کر کہ تو بھی ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سو جیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فرمایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سو تو بھی مانگنے والوں کو ردمت کر اور ان کومت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سو خدا خود تیرا متوتی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کر دیا۔نہ تو والد کا محتاج ہوانہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیئے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔سو اس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر۔اب ان تمام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ صال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اس کے مناسب یہ آیت ہے إِنَّكَ لَفِی ضَلِكَ الْقَدِيمِ (يوسف : ۹۶)۔سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص