تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 407
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ سورة الاحزاب جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غضبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے۔لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے پھل دیتے ہیں۔اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔غرض ان آیتوں کی حقیقت واقعی یہی ہے جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی اور میں ہرگز ایسے معنی نہیں کروں گا جن سے ایک طرف تو یہ لازم آوے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پاک امانت نہیں تھی بلکہ کوئی فساد کی بات تھی جو ایک مفسد ظالم نے قبول کر لی اور نیکوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دوسری طرف تمام مقدس رسولوں اور نبیوں کو جو اول درجہ پر امانت کے عمل ہیں ظالم ٹھہرایا جاوے۔اور میں بیان کر چکا ہوں کہ دراصل امانت اور اسلام کی حقیقت ایک ہی ہے اور امانت اور اسلام در اصل محمود چیز ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا اسی کو واپس دیا جاوے جیسے امانت واپس دی جاتی ہے پس جس نے ایک محمود اور پسندیدہ چیز کو قبول کر لیا اور خدا تعالیٰ کے حکم سے منہ نہ پھیرا اور اس کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھا وہ لائق مذمت کیوں ٹھہرے اور یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اس آیت کے آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے لِيُعَذِّبَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَتِ وَيَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا - یعنی انسان نے جو امانت اللہ کو قبول کر لیا تو اس سے یہ لازم آیا جو منافقین اور منافقات اور مشرکین اور مشرکات جنہوں نے صرف زبان سے قبول کیا اور عملاً اس کے پابند نہیں ہوئے وہ معذب ہوں اور مومنین اور مومنات جنہوں نے امانت کو قبول کر کے عملاً پابندی بھی اختیار کی وہ مور د رحمت الہی ہوں۔یہ آیت بھی صاف اور صریح طور پر بول رہی ہے کہ آیت موصوفہ میں ظلوم وجہول سے مراد مومن ہیں جن کی طبیعتوں اور استعدادوں نے امانت کو قبول کر لیا اور پھر اس پر کار بند ہو گئے کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ مشرکوں اور منافقوں نے کامل طور پر قبول نہیں کیا اور حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ میں جو انسان کے لفظ پر الف لام ہے وہ بھی درحقیقت تخصیص کے لئے ہے جس سے خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ثابت ہوتا ہے کہ تمام انسانوں نے اس امانت کو کامل طور پر قبول نہیں کیا صرف مومنوں نے قبول کیا ہے اور منافقوں اور مشرکوں کی فطرتوں میں گو ایک ذرہ استعداد کا موجود تھا مگر بوجہ نقصان استعداد وہ کامل طور پر اس پیارے لفظ ظلوم اور جہول سے حصہ نہ لے سکے اور جن کو بڑی قوت ملی تھی وہ کامل طور پر اس نعمت کو لے