تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 405
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۵ سورة الاحزاب مطلب یہی ہے کہ انسان مومن احکام الہی کی بجا آوری میں اپنے نفس پر اس طور سے ظلم کرتا ہے جو نفس کے جذبات اور خواہشوں کا مخالف ہو جاتا ہے اور اس سے اس کے جوشوں کو گھٹاتا ہے اور کم کرتا ہے۔اور صاحب تفسیر حسینی خواجہ محمد پارسا کی تفسیر سے نقل کرتے ہیں کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ انسان نے اس امانت کو اس لئے اٹھالیا کہ وہ ظلوم تھا یعنی اس بات پر قادر تھا کہ اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے باہر آ جائے یعنی جذبات نفسانی کو کم بلکہ معدوم کر دیوے اور ہو یت مطلقہ میں گم ہو جائے اور انسان جہول تھا اس لئے کہ اس میں یہ قوت ہے کہ غیر حق سے بکلی غافل اور نادان ہو جائے اور بقول لا إِلهَ إِلَّا الله نفی ما سوئی کی کر دیوے اور ابن جریر بھی جو رئیس المفسرین ہے اس آیت کی شرح میں لکھتا ہے کہ ظلوم اور جمہول کا لفظ محل مدح میں ہے نہ ذم میں غرض اکابر اور محققین جن کی آنکھوں کو خدا تعالیٰ نے نور معرفت سے منور کیا تھا وہ اکثر اسی طرف گئے ہیں کہ اس آیت کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے کہ انسان نے خدا تعالی کی امانت کو اٹھا کر ظلوم اور جہول کا خطاب مدح کے طور پر حاصل کیا نہ ذم کے طور پر چنانچہ ابن کثیر نے بھی بعض روایات اسی کی تائید میں لکھی ہیں اور اگر ہم اس تمام آیت پر کہ اِنا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَابَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا - ایک نظر غور کی کریں تو یقینی طور پر معلوم ہوگا کہ وہ امانت جو فرشتوں اور زمین اور پہاڑوں اور تمام کو اکب پر عرض کی گئی تھی اور انہوں نے اٹھانے سے انکار کیا تھا وہ جس وقت انسان پر عرض کی گئی تھی تو بلاشبہ سب سے اول انبیاء اور رسولوں کی روحوں پر عرض کی گئی ہوگی کیونکہ وہ انسانوں کے سردار اور انسانیت کے حقیقی مفہوم کے اول المستحقین ہیں پس اگر ظلوم اور جہول کے معنے یہی مراد لئے جائیں جو کافر اور مشرک اور پکے نافرمان کو کہتے ہیں تو پھر نعوذ باللہ سب سے پہلے انبیاء کی نسبت اس نام کا اطلاق ہوگا۔لہذا یہ بات نہایت روشن اور بدیہی ہے کہ ظلوم اور جہول کا لفظ اس جگہ محل مدح میں ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کو مان لیا جاوے اور اس سے منہ پھیر نا موجب معصیت نہیں ہو سکتا یہ تو عین سعادت ہے تو پھر ظلوم اور جہول کے حقیقی معنی جو ابا اور سرکشی کو مستلزم ہیں کیوں کر اس مقام کے مناسب حال ہو سکتے ہیں جو شخص قرآن کریم کی اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اُس پر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم ورحیم جلشانہ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معنا نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کریم کے حق میں فرمایا وَ وَجَدَكَ ضَالاً فَهَدَى ( الضُّحى : ۸) اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے