تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 404
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۴ عنایت فرمایا۔سُبْحَانَ اللهِ مَا أَعْظَمَ شَأْنُكَ يَا رَسُوْلَ الله موسی و عیسی همه خیل تواند جمله درین راه طفیل تواند سورة الاحزاب پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال دیں گی۔ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میرے پیچھے پیچھے چلنا اختیار کر یعنی میرے طریق پر جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم مارو تب خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تئیں ربّ العالمین کے لئے خالص کرلوں یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ ربّ العالمین ہے میں خادم العالمین بنوں اور ہمہ تن اس کا اور اس کی راہ کا ہو جاؤں۔سو میں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کر دیا ہے اب کچھ بھی میرا نہیں جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کا ہے۔اور یہ وسوسہ کہ ایسے معنے آیت ظلوم وجہول کے کس نے متقدمین سے کئے ہیں اور کون اہل زبان میں سے ظلم کے ایسے معنے بھی کرتا ہے اس وہم کا جواب یہ ہے کہ ہمیں بعد کلام اللہ کے کسی اور سند کی ضرورت نہیں۔کلام الہی کے بعض مقامات بعض کی شرح ہیں۔پس جس حالت میں خدا تعالیٰ نے بعض متقیوں کا نام بھی ظالم رکھا ہے اور مراتب ثلاثہ تقویٰ سے پہلا مرتبہ تقویٰ کا ظلم کو ہی ٹھہرایا ہے تو اس سے ہم نے قطعی اور یقینی طور پر سمجھ لیا کہ اس ظلم کے لفظ سے وہ ظلم مراد نہیں ہے جو تقویٰ سے دور اور کفار اور مشرکین اور نافرمانوں کا شعار ہے بلکہ وہ ظلم مراد ہے جو سلوک کے ابتدائی حالات میں متقیوں کے لئے شرط تختم ہے یعنی جذبات نفسانی پر حملہ کرنا اور بشریت کی ظلمت کو اپنے نفس سے کم کرنے کے لئے کوشش کرنا جیسا کہ اس دوسری آیت میں بھی کم کرنے کے معنی ہیں اور وہ یہ ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا (الكهف : ۳۴)۔آئی وَلَمْ تَنْقُض دیکھو قاموس اور صحاح اور صراح جو ظلم کے معنے کم کرنے کے بھی لکھے ہیں اور اس آیت کے یہی معنے کئے ہیں یعنی وَلَمْ تَنقُض۔ماسوا اس کے اس معنے کے کرنے میں یہ عاجز متفرد نہیں بڑے بڑے محقق اور فضلاء نے جواہل زبان تھے یہی معنے کئے ہیں چنانچہ منجملہ ان کے صاحب فتوحات مکیہ ہیں جو اہل زبان بھی ہیں وہ اپنی ایک تفسیر میں جو مصر کے چھاپہ میں چھپ کر شائع ہوئی ہے یہی معنے کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے زیر تفسیر آیت وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔یہی معنے لکھے ہیں کہ یہ ظلوم و جہول مقام مدح میں ہے اور اس سے