تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 401
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة الاحزاب خوبیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیر اللہ کو بکلی فراموش کر دے۔توضیح مرام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۶،۷۵) ظلومیت۔۔۔ایک نہایت قابل تعریف جو ہر انسان میں ہے جو فرشتوں کو بھی نہیں دیا گیا اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولا یعنی انسان میں ظلومیت اور جہولیت کی صفت تھی اس لئے اس نے اس امانت کو اُٹھا لیا جس کو وہی شخص اٹھا سکتا ہے جس میں اپنے نفس کی مخالفت اور اپنے نفس پر سختی کرنے کی صفت ہو۔غرض یہ صفت ظلومیت انسان کے مراتب سلوک کا ایک مرکب اور اس کے مقامات قرب کے لئے ایک عظیم الشان ذریعہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو بوجہ مجاہدات شاقہ کے اوائل حال میں نار جہنم کی شکل پر تجلی کرتا ہے لیکن آخر نعماء جنت تک پہنچادیتا ہے اور در حقیقت قرآن کریم کے دوسرے مقام میں جو یہ آیت ہے وَ اِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيَّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا جنيًّا ( مريم : ۷۳ ) یہ بھی در حقیقت صفت محمودہ ظلومیت کی طرف ہی ٧٣ اشارہ کرتی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۲، ۱۴۳) ظلومیت کی صفت جو مومن میں ہے یہی اس کو خدا تعالی کا پیارا بنا دیتی ہے اور اسی کی برکت سے مومن بڑے بڑے مراحل سلوک کے طے کرتا اور نا قابل برداشت تلخیاں اور طرح طرح کی دوزخوں کی جلن اور حرقت اپنے لئے بخوشی خاطر قبول کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ انسان کی اعلیٰ درجہ کی مدح بیان کی ہے اور اس کو فرشتوں پر بھی ترجیح دی ہے اس مقام میں اس کی یہی فضیلت پیش کی ہے کہ وہ ظلوم اور جہول ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔یعنی اُس امانت کو جو ربوبیت کا کامل ابتلا ہے جس کو فقط عبودیت کاملہ اٹھا سکتی ہے انسان نے اٹھالیا کیونکہ وہ ظلوم اور جہول تھا یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر سختی کر سکتا تھا اور غیر اللہ سے اس قدر دور ہو سکتا تھا کہ اس کی صورت علمی سے بھی اس کا ذہن خالی ہو جاتا تھا۔واضح ہو کہ ہم سخت غلطی کریں گے اگر اس جگہ ظلوم کے لفظ سے کافر اور سرکش اور مشرک اور عدل کو چھوڑنے والا مراد لیں گے کیونکہ یہ ظلوم جہول کا لفظ اس جگہ اللہ جل شانہ نے انسان کے لئے مقام مدح میں استعمال کیا ہے نہ مقام زم میں اور اگر نعوذ باللہ یہ مقام زم میں ہو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ سب سے بدتر انسان ہی تھا جس نے خدا تعالیٰ کی پاک امانت کو اپنے سر پر اٹھالیا اور اس کے حکم کو مان