تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 400
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عِنْدَ اللهِ وَجِيها سورة الاحزاب خدا نے اس کو ان الزامات سے بری کیا جو اس پر لگائے گئے تھے اور خدا کے نزدیک وہ وجیہ ہے۔(برائین احمد یه چهار تص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۶ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًان زبان کو صدق وصواب پر قائم رکھنے کے لئے تاکید فرمائی اور کہا قُولُوا قَوْلاً سَدِيد ا یعنی وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہوا اور اغوا اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سر مودخل نہ ہو۔برائین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۰،۲۰۹ حاشیه ) اے دے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور وہ باتیں کیا کرو جو کچی اور راست اور حق اور حکمت پر مبنی ہوں۔لغو باتیں مت کیا کر محل اور موقع کی بات کیا کرو۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) جب بات کرو تو حکمت اور معقولیت سے کرو اور لغو گوئی سے بچو۔لیکھر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۷) إنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّبُوتِ وَ الْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَابَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا لِيُعَذِّبَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَ الْمُشْرِكِينَ وَ الْمُشْرِكَتِ وَ يَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ، وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا إنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمواتِ وَالْأَرْضِ۔۔۔۔۔إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولا یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق و محبت الہی اور مور د ابتلا ہو کر پھر یوری اطاعت کرنا ہے۔آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظا ہر قوی ہیکل چیزیں تھیں سو ان سب چیزوں نے اس امانت کے بظاہر سوال اسوان اُٹھانے سے انکار کر دیا اور اس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا کیونکہ انسان میں یہ دو