تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 399
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۹ سورة الاحزاب آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محمد کہلا یا صلی اللہ علیہ وسلم۔الحام جلد ۵ نمبر ۲ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں اول إِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي (ال عمران : ۳۲) دوم يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيما - تیسرا موهبت الہی۔ٹریکٹ نمبر البعنوان حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدۃ الوجود پر ایک خط صفحه ۲۲) لين لم يَنْتَهِ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا مَّلْعُونِينَ أَيْنَمَا تُقِفُوا أخِذُوا وَ قُتِلُوا تَقتِيلا جیسے روشنی میں سیہ دل چور نہیں ٹھہر سکتا ایسے ہی اس مقام میں جو تجلیات و انوار الہی کا مرکز ہو کوئی سید دل خائن بہت مدت نہیں ٹھہر سکتا اسی لئے فرمایا قرآن مجید میں لا يُجاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ( نہ پڑوس میں رہیں گے تیرے مگر چند دن ) ( بدر جلد 4 نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ صفحه ۸) ۶ یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جو شخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اس پر ملعون کا لفظ بولا گیا ہو۔وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں یہی اشارہ ہے مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا تُقِفُوا أَخِذُوا وَقُتِلُوا تَقْتِيلًا یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں یہ لعنتی ہیں یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے رد کئے گئے اس لئے یہ اس لائق ہیں کہ جہاں ان کو پا و قتل کر دو۔پس اس آیت میں اس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ مفتی ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی پیدائش ہی ایسی ہوتی ہے جس پر جھوٹ اور بدکاری کا جوش غالب رہتا ہے اور اسی بنا پر قتل کرنے کا حکم ہوا کیونکہ جو قابلِ علاج نہیں اور مرض متعدی رکھتا ہے اس کا مرنا بہتر ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۳۸،۲۳۷) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ اذَا مُوسَى فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ